القصائد الاحمدیہ — Page 33
۳۳ وَقَالَ لَهُ وَلَدٌ مَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ فَسُبْحَانَ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا تَصَوَّرُوا اس نے کہا کہ مسیح ابن مریم خدا کا بیٹا ہے اور عرش کا مالک ( تو ) اس عیب سے پاک ہے جس کا انہوں نے تصور کیا۔وَقَالَ بِانَّ اللَّهَ اسْمُ ثَلَثَةِ اَبٌ وَّابْنُهُ حَقًّا وَّ رُوْحٌ مُطَهَّرُ اور اس نے کہا کہ اللہ تین شخصیتوں کا نام ہے۔باپ۔اس کے حقیقی بیٹے اور روح القدس کا۔فَقُلْتُ لَهُ اخْسَأْ لَيْسَ عِيسَى بِخَالِقِ وَخَالِقُنَا الرَّبُّ الْوَحِيدُ الْأَكْبَرُ میں نے اس سے کہا : تجھے پھٹکار عیسی ہرگز خالق نہیں ہے۔ہمارا خالق تو رب یگانہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔أَتُنْبِتُ فِى مُلْكِ لَّهُ مِنْ بَرِيَّةٍ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ هُوَ فِي السَّمَاءِ مُدَبِّرُ کیا تو ثابت کر سکتا ہے کہ اس (عیسی) کے اقتدار میں زمین کی کوئی مخلوق ہے؟ یا کیا تو ثابت کر سکتا ہے ) کہ وہ آسمان میں مدبر ہے۔وَإِنَّ عَلَى مَعْبُودِكَ الْمَوْتَ قَدْاتى وَالهُنَا حَقٌّ وَيَبْقَى وَيَعْمَرُ اور یقیناً تیرے معبود پر تو موت آ چکی ہے اور ہمارا معبود زندہ ہے باقی رہے گا اور دائم ہے۔وَلَيْسَ لِمُسْتَغْنِ إِلَى الْإِبْنِ حَاجَةٌ وَحَاشَاهُ مَا الْأَوْلَادُ شَيْئًا يُوَقَّرُ اور مستغنی ذات کو بیٹے کی کوئی حاجت نہیں ہے وہ اس سے منزہ ہے۔اولا د کوئی ایسی شے نہیں جسے عظمت دی جائے۔أَعِيسَى الَّذِي لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ ذَرَّةٌ إِلَة وَتَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ کیا عیسی جو ذرہ بھر ( بھی ) عالم غیب نہیں رکھتا، معبود ہو سکتا ہے؟ اور تو جانتا ہے کہ اسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔فَاثْنَى عَلَى إِبْلِيسَ بِالْعِلْمِ وَالْهُدَى وَقَالَ هُوَ الشَّيْخُ الَّذِي لَا يُنْكَرُ پھر مخاصم نے علم و ہدایت میں ابلیس کی تعریف کی اور اس نے کہا کہ وہ ایسا بزرگ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔وَيُؤْمِنُ بِالْاِبْنِ الْوَحِيدِ تَيَقُنَا وَمَذْهَبُهُ مِثْلَ النَّصَارَى تَنَصُّرُ اور کہا کہ ) وہ (شیطان) اکلوتے بیٹے پر پورے یقین کی راہ سے ایمان رکھتا ہے اور اسکا ذہب ( بھی ) عیسائیوں کی طرح عیسائیت (ہی) ہے۔فَقُلْتُ لَهُ يَاأَيُّهَا الضَّالُّ مِنْ هَوًى أَتُثنِي عَلَى غُولٍ يُضِلُّ وَيُدْخِرُ ود میں نے اسکو جواب دیا کہ اے نفسانی خواہش کے باعث گراہ شخص ! کیا تو ایک چھلاوے کی تعریف کرتا ہے جو گمراہ اور ذلیل کرتا ہے۔