القصائد الاحمدیہ — Page 31
۳۱ يُنَوِّرُ ضَوْءُ الشَّمْسِ وَجْهَ خَلَائِقِ وَلَكِنْ جَنَانِي مِنْ سَنَاكَ يُنَوَّرُ سورج کی روشنی تو مخلوق کے چہرے کو منور کرتی ہے۔لیکن میرا دل تیرے نور سے منور ہوتا ہے۔تُحِيطُ بِكُنهِ الْكَائِنَاتِ وَسِرِّهَا وَتَعْلَمُ مَا هُوَ مُسْتَبَانٌ وَّ مُضْمَرُ تو کائنات کی گنہ اور بھیدوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اور جو ظاہر ہے اور جو ( دل میں ) پوشیدہ ہے تو اسے خوب جانتا ہے۔وَ نَحْنُ عِبَادُكَ يَا اِلهى وَمَلْجَأَى نَخِرُّ اَمَامَكَ خَشْيَةٌ وَّ نُكَبِّرُ اور اے میرے معبود اور میری پناہ! ہم تیرے بندے ہیں۔ہم خشیت سے تیرے آگے ہی گرتے ہیں اور تیری بڑائی کرتے ہیں۔نَصَرْتَ لِافْحَامِ النَّصَارَى قَرِيْحَتِي وَهَدَّمْتَ مَا يُعْلِي الْخَصِيمُ وَيَعْمُرُ تو نے میری فطرت کو نصاری کا منہ بند کرنے کیلئے مددی ہے اور تو نے اس عمارت کو جو دشمن بلند کرتا ہے ڈھا دیا ہے۔وَاَخَذْتَهُمْ وَكَسَرْتَ دَايَا مُنَفَّدًا وَاَتْمَمْتَ وَعْدَكَ فِي صَلِيبِ يُكَسَّرُ تو نے انکو گرفت میں لیا اور سینے کی مرتب پسلیوں کوتو ڑ ڈالا۔اور (اس طرح) صلیب کے بارہ میں اپنے وعدہ کو کہ وہ توڑ دی جائیگی پورا کردیا۔فَسُبْحَانَ مَنْ بَارِى لِمُصْرَةِ دِينِهِ وَأَخْزَى النَّصَارَى فَضْلُهُ الْمُتَكَثِرُ پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے دین کی نصرت کے لئے مقابلہ کیا اور اس کے فضل کثیر نے نصاری کو رسوا کر دیا۔سَقَانِى مِنَ الْأَسْرَارِ كَأْسًا رَوِيَّةً وَإِنْ كُنْتُ مِنْ قَبْلِ الْهُدَى لَا أَعْثَرُ اس نے مجھے اسرار کا سیر کن پیالہ پلا یا اگر چہ میں اس راہنمائی سے پہلے (اس سے) آگاہ نہیں تھا۔غَيُورٌ يُبِيدُ الْمُجْرِمِينَ بِسُخُطِهِ غَفُورٌ يُنَجِّى السَّائِبِينَ وَيَغْفِرُ وہ غیرت مند ہے۔اپنے غضب سے مجرموں کو ہلاک کر دیتا ہے۔وہ بخشتا ہے تو بہ کرنے والوں کو نجات دیتا ہے اور بخش دیتا ہے۔وَحِيدٌ فَرِيدٌ لَا شَرِيكَ لِذَاتِهِ قَوِيٌّ عَلِيٌّ مُّسْتَعَانٌ مُقَدِرُ وہ یگانہ و یکتا ہے اپنی ذات میں لاشریک ہے قوی ( اور ) بلند مرتبہ ہے اسی سے مدد مانگی جاتی ہے (اور ) تقدیر بنانے والا ہے۔لَهُ الْمُلْكُ وَ الْمَلَكُوتُ وَالْمَجْدُ كُلُّهُ وَكُلٌّ لَّهُ مَا بَانَ فِيْنَا وَيَظْهَرُ اسی کے لئے حکومت بادشاہی اور ساری بزرگی ہے اور سب اسی کا ہے جو ہم میں ظاہر ہوا اور ظاہر ہوگا۔