القصائد الاحمدیہ — Page 28
۲۸ كَادَتْ تُعَفِّيْنِي ضَلَالَاتٌ فَادْرَكَنِ فَادْرَكَنِي الْهُدى قریب تھا کہ گمراہیاں مجھے مٹادیتیں پر ہدایت نے مجھے پالیا۔ا صَاحِ إِنَّ اللَّـهَ قَد أغـــطــــى لَـنَــا هـذَا جَدًا اے ساتھی ! بے شک اللہ (تعالی) نے ہمیں یہ عطیہ بخش دیا ہے۔فوَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ الَّتِى تُعْطِي نَعِيْمًا مُّخْلَدَا وہ ایسی لیلۃ القدر ہے جو دائمی نعمت عطا کرتی ہے۔اَتَجُولُ فِي حَوْمَاتِ نَفْسِكَ تَارِا سُنَنَ الْهُدَى کیا تو ! (اے مخاطب) اپنے نفس کے میدانوں میں ہدایت کے طریقوں کو چھوڑ کر گھوم رہا ہے؟ انْتَهَجَتَ مَحَجَّةَ الأحْيَاءِ يَاصَيدَ الرَّدَا تو کیوں زندوں کے طریق کار پر گامزن نہ ہوا ؟ اے ہلاکت کے شکار ! يَامَنْ غَدَا لِلْمُؤْمِنِينَ اَشَدُّ بُغْضًا كَالْعِدًا اے وہ شخص جو مومنوں کے لئے دشمنوں کی طرح شدید ترین بغض رکھنے والا ہو گیا ہے! رُتَ لَذَّةَ هَذِهِ وَنَسِيتَ مَايُعْطى غَدَا تو نے اس دنیا کی لذت کو اختیار کر لیا اور جو کل ملے گا اسے بھلا دیا ہے۔ـا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ قَدْ هَلَكْتَ تَجَلُّدَا اے حقیر دنیا کے طالب ! تو گناہوں پر دلیری کی وجہ سے ہلاک ہو گیا ہے۔ـادَيْتَ أَهْلَ وَلَايَةٍ وَقَفَوْتَ أثَارَ الْعِدَا تو نے (اللہ سے) دوستی کرنے والوں سے دشمنی کی اور دشمنوں کے نشانِ قدم پر چلا ہے۔الْيَوْمَ تُكْفِرُنِي وَتَحْسَبُنِي آج تو مجھے کافر کہتا ہے اور مجھے بد بخت اور بے دین خیال کرتا ہے۔مُلْحِدًا