القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 353

۳۵۳ ۵۱ تَرَى نَصْرَ رَبِّي كَيْفَ يَأْتِي وَيَظْهَرُ وَيَسْعَى إِلَيْنَا كُلُّ مَنْ هُوَ يُبْصِرُ میرے خدا کی مدد کوتو دیکھتا ہے کیونکر آرہی ہے اور ظاہر ہورہی ہے اور ہر ایک جو آنکھیں رکھتا ہے ہماری طرف دوڑتا چلا آتا ہے۔اَتَعْلَمُ مُفْتَرِيًا كَمِثْلِى مُؤَيَّدًا وَيَقْطَعُ رَبِّى كُلَّ مَا لَا يُثْمِرُ کیا تو کوکسی ایسے مفتری کو جانتا ہے جو میری طرح مؤید بتائید الہی ہواور میرے خدا کی یہ عادت ہے کہ ہر ایک شاخ جو کہ پھل نہیں لاتی وہ کاٹ دیتا ہے۔تَقُوْلُوْنَ كَذَّابٌ وَقَدْ لَاحَ صِدْقُنَا بِآيِ تَجَلَّتْ لَيْسَ فِيْهَا تَكَدُّرُ تم کہتے ہو کہ یہ شخص جھوٹا ہے حالانکہ میرا اصدق ظاہر ہو چکا ان نشانوں کے ساتھ صدق ظاہر ہوا کہ جن میں کوئی کدورت نہیں۔وَهَلْ يَسْتَوِى ضَوْءًا نَهَارُ وَلَيْلَةٌ فَكَيْفَ كَذُوبٌ وَالصَّدُوقَ الْمُطَهَّرُ اور کیا دن اور رات روشنی میں برابر ہو سکتے ہیں پس کیونکر ایک جھوٹا اور وہ سچا جو پاک کیا گیا ہے برابر ہو جائیں گے۔فَفَكِّرُ وَ لَا تَعْجَلُ عَلَيْنَا تَعَصُّبًا وَإِنْ كُنْتَ لَا تَخْشَى فَكَذَّبُ وَ زَوِّرُ پس سوچ۔اور جلدی سے ہم پر حملہ مت کر اور اگر تو نہیں ڈرا پس دروغ آرائی سے تکذیب کر۔وَكَفِّرُ وَمَا التَّكْفِيرُ مِنْكَ بِبِدْعَةٍ كَمِثْلِكَ قَالَ السَّابِقُونَ فَدُمِّرُوا اور مجھے کا فرکہ اور کا فر کہنا تیری طرف سے کوئی بدعت نہیں تیری طرح پہلے منکر بھی کافر کہتے رہے ہیں اور آخر ہلاک کئے گئے۔وَهذَا هُوَ الْوَقْتُ الَّذِي لَكَ نَافِعٌ فَتُبْ قَبْلَ وَقْتٍ فِيهِ تُدْعَى وَتُحْضَرُ اور یہی وقت ہے جو تجھے نفع دے سکتا ہے پس اس وقت سے پہلے تو بہ کر جس میں تو بلا یا جائے اور حاضر کیا جائے۔وَقَدْ كَبَّدَتْ شَمْسُ الْهُدَى وَأُمُورُنَا اَنَارَتْ كَيَاقُوتٍ وَاَنْتَ تُعَفِّرُ اور آفتاب ہدایت سمت الراس پر آ گیا اور ہمارے کام یا قوت کی طرح چمک اٹھے اور تو ان کو خاک آلود کرنا چاہتا ہے۔