القصائد الاحمدیہ — Page 26
۲۶ مَا إِنْ رَأَيْنَا مِثلَ ہم نے اس کی مانند سوتوں کو جگانے والا کوئی نہیں دیکھا۔لمِينَ مُسَهَدَا نُورٌ مِّنَ اللَّهِ الَّذِي أَحْيَى الْـعُــلُـومَ تَجَدُّدَا وہ اللہ کا نور ہے جس نے علوم کو نئے سرے سے زندہ کر دیا۔الْمُصْطَفى وَالْمُجْتَبَى وَالْمُقْتَدَا وَالْمُجْتَدَا وہ برگزیدہ ہے چنا ہوا ہے اس کی پیروی کی جاتی ہے، اس سے فیض طلب کیا جاتا ہے۔ممِعَتْ مَرَابِيعُ الْهُدَى فِي وَبُلِهِ حِيْـنَ الــــــى ہدایت کی بارشیں سخاوت کے وقت اس کی موسلا دھار بارش میں جمع کر دی گئیں۔ـزَّمَانُ رِهَامَهُ مِنْ جَوْدِ هَذَا الْمُقْتَدَا زمانہ اپنی مسلسل تھوڑی بارش کو بھول گیا ہے اس مقتدا کی موسلا دھار بارش کے مقابلہ میں۔الْيَوْمَ يَسْعَى النِّكْسُ أَنْ يُطْفِي هُدَاهُ وَ يُخْمِدَا آج کمبینہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی ہدایت کو بجھادے اور ٹھنڈا کر دے۔له يُبْدِي نُوْرَهُ يَوْمًا وَّاِنْ طَالَ الْمَدَى اور اللہ اس کے نور کوظاہر کر دیگا کسی نہ کسی دن خواہ مدت لمبی ہی ہو جائے۔يَاقَطرَ سَارِيَةٍ وَغَادٍ قَدْ عُصِمْتَ مِنَ الرَّدَا اے رات کو برسنے والی اور دن کو برسنے والی بارش ! تو ہلاکت سے محفوظ کر دی گئی ہے۔رَبَّيْتَ أَشْجَارَ الْآسِرَةِ بِالفُيُوْضِ وَقَرْدَدَا تو نے اپنے فیوض سے پست زمین کے درختوں کی پرورش کی ہے اور اونچی زمین کے بھی۔ا وَجَدْنَاكَ الْمَلَاذَ فَبَعْدَ كَهْفٍ قَدْ بَدًا نَّا بے شک ہم نے تجھے جائے پناہ پایا ہے سو ایسی عظیم الشان پناہ گاہ کے بعد جو ظا ہر ہو چکی ہے۔