القصائد الاحمدیہ — Page 331
۳۳۱ كَاَنَّ امْرَءًا فِى النَّاسِ مَا كَانَ غَيْرُهُ وَطَهَّرَهُ الرَّحْمَانُ وَالْغَيْرُ يَفْجُرُ گو یا لوگوں میں وہی ایک آدمی تھا۔اور اس کو خدا نے پاک کیا اور غیر ناپاک ہیں۔وَهَذَا هُوَ الْقَوْلُ الَّذِى فِى ابْنِ مَرْيَمَ يَقُولُ النَّصَارَى أَيُّهَا الْمُتَنَصِّرُ اور یہ تو وہی قول ہے جو حضرت عیسی کی نسبت نصاری کہا کرتے ہیں۔اے نصاریٰ سے مشابہ! فَيَاعَجَبًا كَيْفَ الْقُلُوبُ تَشَابَهَتْ فَكَادَ السَّمَا مِنْ قَوْلِكُمْ تَتَفَطَّرُ پس تعجب ہے کہ کیونکر دل باہم مشابہ ہو گئے۔پس نزدیک ہے کہ آسمان ان کی باتوں سے پھٹ جائیں۔اتُطْرِءُ عَبْدًا مِّثْلَ عِيسَى وَتَنْحِتُ لَهُ رُتْبَةً كَالْانْبِيَاءِ وَ تَهْذَرُ کیا تو عیسی کی طرح ایک بندہ کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے۔اور اس کے لئے انبیاء کا رتبہ قرار دیتا ہے۔ا لَا لَيْتَ شِعْرِى هَلْ رَأَيْتَ مَقَامَهُ كَمِثْلِ بَصِيرٍ أَوْ عَلَى الظَّنِّ تَعْمُرُ کاش تجھے سمجھ ہوتی۔کیا تو نے اس کا مقام دیکھ لیا ہے۔یا ساری عمارت ظن پر ہے۔اَتُعْلِيْهِ إِطْرَاءً وَ كِذْبَا وَّ فِرْيَةً اَتَسْقِيهِ كَأْسًا مَاسَقَاهُ الْمُقَدِّرُ کیا تو اس کو محض جھوٹ اور افترا کی راہ سے بلند کرنا چاہتا ہے کیا تو اس کو وہ پیالہ پلاتا ہے جو خدا نے اس کو نہیں پلایا۔تَكَادُ السَّمَوَاتُ العُلى مِنْ كَلَامِكُمْ تَفَطَّرْنَ لَوْلَا وَقْتُهَا مُتَقَرِّرُ قریب ہے کہ آسمان تمہارے کلام سے۔پھٹ جائیں اگر ان کے پھٹنے کا وقت مقرر نہ ہو۔اكَانَ حُسَيْنُ أَفْضَلَ الرُّسُلِ كُلِّهِمْ وَكَانَ شَفِيْعَ الْأَنْبِيَاءِ وَ مُوْثَرُ کیا حسین تمام نبیوں سے بڑھ کر تھا۔کیا وہی نبیوں کا شفیع اور سب سے برگزیدہ تھا اَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ الْغَيُّوْر عَلَى الَّذِي يَمِينُ بِاطْرَاءٍ وَّ لَا يَتَبَصَّرُ خبر دار ہو کہ خدائے غیور کی لعنت اس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں سے جھوٹ بولتا ہے اور نہیں دیکھتا۔وَأَمَّا مَقَامِي فَاعْلَمُوا أَنَّ خَالِقِى يُحَمِّدُنِي مِنْ عَرْشِهِ وَيُوَقِّرُ اور میر امقام یہ ہے کہ میرا خدا۔عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔