القصائد الاحمدیہ — Page 330
۳۳۰ إِذَا مَا بَكَى الْمَعْصُومُ تَبْكِى الْمَلَائِكَ فَكَمْ مِّنْ بِلَادٍ تُهْلَكُنَّ وَ تُجْذَرُ جب معصوم روتا ہے تو اس کے ساتھ فرشتے روتے ہیں۔پس بہت بستیاں ہلاک کی جاتی ہیں اور اجاڑی جاتی ہیں۔إِذَا ذَرَفَتْ عَيْنَا تَقِيِّ بِغُمَّةٍ يُفَرَّجُ كَرُبٌ مَّسَّهُ أَوْ يُبَشِّرُ جب ایک پر ہیز گار کی آنکھیں آنسو جاری کرتی ہیں ایک غم کی وجہ سے۔پس وہ بے قراری اس سے دور کی جاتی ہے یا بشارت دی جاتی ہے۔عَلَى الْأَرْضِ قَوْمٌ كَالسُّيُوفِ دُعَانُهُمْ فَمَنْ مَّسَّ هَذَا السَّيْفَ بِالشَّرِّ يُبْتَرُ زمین پر ایک قوم ہے کہ تلواروں کی طرح ان کی دعا ہے۔پس جو شخص اس تلوار کو چھو جاتا ہے وہ کاٹا جا تا ہے۔تَرَى كَيْفَ نَرْقَى وَالْحَوَادِتُ جُمَّةٌ وَيُهْلَكُ مَنْ يَبْغِى هَلَاكِي وَيَمْكُرُ تو دیکھتا ہے کہ ہم کیونکرترقی کر رہے ہیں حالانکہ حوادث چاروں طرف سے جمع ہیں اور جوشخص میری ہلاکت چاہتا ہے اور مر کرتا ہے وہ ہلاک کیا جاتا ہے۔لَنَا كُلَّ آنِ مِّنْ مُّعِينٍ حِمَايَةٌ نُغَادِرُ صَرْعى مَاكِرِينَ وَ نَظْفَرُ ہمارے لئے ایک مددگار کی طرف سے حمایت ہے۔ہم مکر کرنے والوں کو گرا دیتے ہیں اور فتح پاتے ہیں۔آيا شَاتِما لا شَاتِمَ الْيَوْمَ مِثْلَكُمْ وَمَا إِنْ أَرَى فِي كَفَّكُمْ مَا يُبْطِرُ اے گالی دینے والے! آج تیرے جیسا دشنام دہندہ کوئی نہیں۔اور میں تمہارے ہاتھ میں وہ چیز نہیں دیکھتا کہ تمہیں اس ناز پر آمادہ کرتی ہے۔تَسُبُّ وَمَا أَدْرِى عَلَى مَاتَسُبُّنِي وَآذَاكَ قَوْلِي فِي حُسَيْنٍ فَتُوغَرُ اور تو مجھے گالی دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کیوں مجھے گالی دیتا ہے۔کیا امام حسین کے سبب سے تجھے رنج پہنچا پس تو برافروختہ ہوا۔اَ تَحْسَبُهُ أَتْقَى الرِّجَالِ وَخَيْرَهُمْ فَمَا نَالَكُمْ مِّنْ خَيْرِهِ يَا مُعْذِرُ کیا تو اسکو تمام دنیا سے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے۔اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا؟ اے مبالغہ کر نیوالے! أَرَاكُمْ كَذَاتِ الْحَيْضِ لَا مِثْلَ طَاهِرٍ تَطِيبُ وَمِنْ مَّاءِ الْعَذَابَةِ تَطْهَرُ میں تمہیں حیض والی عورت کی طرح دیکھتا ہوں۔نہ اس عورت کی طرح جو حیض سے پاک ہوتی ہے۔حَسِبْتُمْ حُسَيْنًا أَكْرَمَ النَّاسِ فِي الْوَرَى وَاَفْضَلَ مَا فَطَرَ الْقَدِيرُ وَ يَفْطُرُ تم نے حسین کو تمام مخلوق سے بہتر سمجھ لیا ہے۔اور تمام ان لوگوں سے افضل سمجھا ہے جو خدا نے پیدا کئے۔