القصائد الاحمدیہ — Page 24
۲۴ وَ أَيْنَ سُيُوفُكُمْ؟ يَا شَيْخَ قَوْمٍ وَحَلَّ بَـقَـاعَكُمْ حِزْبٌ شِحَاحُ اے شیخ قوم ! تمہاری تلوار میں کہاں ہیں اور حالانکہ اتر چکا ہے تمہارے صحنوں میں ایک حریص گروہ۔وَصَالَ الْحِزْبُ وَاخْتَلَسُوا كَذِتُبِ وَلَمْ يَكُ أَمْرُهُمْ إِلَّا اكْتِسَاحُ اور اس گروہ نے حملہ کر دیا ہے اور وہ بھڑئیے کی طرح جھپٹ پڑے ہیں اور نہیں تھا ان کا کام مگر سب کچھ لوٹ لینا۔وَقَدْ صُبَّتْ عَلَيْكُمْ كُلُّ رُزُءٍ فَمَا فِي بَيْتِكُمُ إِلَّا الرَّدَاحُ اور تم پر ہر مصیبت ڈالی گئی ہے۔پس تمہارے گھروں میں سوائے ظلمت کے کچھ باقی نہیں رہا۔وَكَمْ مِنْ مُسْلِمٍ ذَابُوا بِجُوعِ وَعَاشُوا جَائِعِيْنَ وَمَا اسْتَرَاحُوا اور کتنے ہی مسلمان بھوک سے پگھل گئے اور بھو کے ہی رہے اور راحت نہ پائی۔وَبَحْرُ الْعِلْمِ يَعْرِفُ مَوْجَ بَحْرِى وَلَكِنْ عِندَكُمْ مَّاءٌ وَّجَاحُ اور علم کا سمندر ہی میرے سمندر کی موج کو پہچانتا ہے لیکن تمہارے پاس تو صرف سطحی پانی ہے۔نَظَمْتُ قَصِيدَتِى مِنْ إِرْتِجَالٍ وَأَيْنَ الْفَضْلُ لَوْلَا الْإِقْتِرَاحُ میں نے اپنا قصیدہ فی البدیہ نظم کیا ہے اور اگرفی البدیہ کہنا نہ ہوتا تو فضیلت کیسے ہوسکتی تھی۔فَخُذْمِنّى بِعَفْوِ كَالْكِرَامِ وَدُونَكَ مَا هُوَ الْحَقُّ الصُّرَاحُ پس اسے مجھ سے عفو کے ساتھ شریفوں کی طرح لے لے اور جو کھلی سچائی ہے اسے حاصل کر۔وَ إِنْ بَارَزْتَنِي مِنْ بَعْدِ نُصْحِي فَتَعْلَمُ أَنَّنِي بَطَلٌ شَنَاحُ اور اگر تو میری نصیحت کے بعد بھی مجھ سے مقابلہ کرے تو تو جان لے گا کہ یقیناً میں بہادر جوانمرد ہوں۔( تحفة بغداد۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۳۷ تا ۳۹)