القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 329

۳۲۹ تَحَامَ قِتَالِي وَاجْتَنِبُ مَاصَنَعْتَهُ وَإِنَّا إِذَا جُلْنَا فَإِنَّكَ مُدْبِرُ میرے جنگ سے تو پر ہیز کر اور اپنے بد کاموں سے الگ ہو جا۔اور جب ہم میدان میں آئے تو تو بھاگ جائے گا۔أَرَى الصَّالِحِيْنَ يُوَفَّقُونَ لِطَاعَتِي وَأَمَّا الْغَوِيُّ فَفِي الضَّلَالَةِ يُقْبَرُ میں نیک بختوں کو دیکھتا ہوں کہ میری فرمانبرداری کے لئے وہ تو فیق دیئے جاتے ہیں۔مگر جو از لی گمراہ ہے وہ گمراہی میں قبر میں جائے گا۔وَ ذَالِكَ خَتُمُ اللهِ مِنْ بَدْوِ فِطَرَةٍ وَإِنَّ نُقُوشَ اللَّهِ لَا تَتَغَيَّرُ اور یہ ابتدائے پیدائش سے خدا کی مہر ہے۔اور خدا کے نقش متغیر نہیں ہو سکتے۔كَذَالِكَ نُورُ الرُّشْدِ مَا يُخْطِئُءُ الْفَتَى وَكُلُّ نَخِيلٍ لَّا مَحَالَةَ تُثْمِرُ اسی طرح جس فطرت میں رشد کا نور ہے وہ اس مرد سے علیحدہ نہیں ہوتا۔اور ہر ایک کھجور انجام کار پھل لاتی ہے۔وَ مَنْ يَّكُ ذَا فَضْلٍ فَيُدْرِكُ مَقَامَهُ وَلَوْ فِي شَبَابٍ أَوْ بِوَقْتٍ يُعَمَّرُ پس جس کے شامل حال فضل الہی ہے وہ اپنے مقام کو پالے گا۔اگر چہ جوانی میں یا اس وقت کہ جب بڑھا ہو جائے۔وَ لَا يَهْلِكُ الْعَبْدُ السَّعِيدُ جِبلَّةً إِذَا مَا عَمِنْ يَوْمًا بِآخَرَيَنظُرُ اور جس کی فطرت میں سعادت ہے وہ ہلاک نہیں ہوگا۔اگر آج اندھا ہے تو کل دیکھنے لگے گا۔وَلِلْغَيِّ آثَارٌ وَّ لِلرُّشْدِ مِثْلُهَا فَقُومُوا لِتَفْتِيشِ الْعَلَامَاتِ وَانْظُرُوا اور گمراہی کے لئے نشان ہیں اور ایسا ہی رشد کے لئے بھی۔پس تم علامات کی تفتیش کرو اور خوب دیکھو۔اَرَى الظُّلُمَ يَبْقَى فِى الْخَرَاطِيمِ وَسُمُهُ وَيُنْصَرُ مَظْلُومٌ ضَعِيفٌ مُخَسَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ انسان کی ناک میں ظلم کی علامتیں باقی رہ جاتی ہیں۔اور مظلوم کو آخر مدد دی جاتی ہے جو ضعف اور نقصان والا ہوتا ہے۔وَقَدْ أَعْرَضُوا عَنْ كُلِّ خَيْرِ بِغَيْظِهِمْ كَانّى اَرَاهُمْ مِّثْلَ نَارٍ تُسَعَرُ اور انہوں نے ہر ایک نیکی سے غصہ سے منہ پھیر لیا جو میں نے پیش کی۔گویا میں ایک بھڑکتی ہوئی آگ کی طرح ان کو دیکھ رہا ہوں۔وَيُنْصَرُ مَظْلُومٌ بِآخِرِ اَمْرِهِ وَلَا سِيَّمَا عَبْدٌ مِّنَ اللَّهِ مُنْذِرُ اور مظلوم آخر کار مدددیا جاتا ہے۔بالخصوص وہ بندہ جو خدا کی طرف سے ہے۔