القصائد الاحمدیہ — Page 327
۳۲۷ وَ كَيْفَ عَصَوْا وَاللَّهِ لَمْ يُدْرَ سِرُّهَا وَكَانَ سَنَا بَرْقِي مِنَ الشَّمْسِ أَظْهَرُ اور کیوں نافرمان ہو گئے؟ اس کا بخدا بھید کچھ معلوم نہ ہوا۔اور میری برق کی روشنی سورج سے بھی زیادہ ظاہر تھی۔لَزِمُتُ اصْطِبَارًا عِنْدَ جَوُرٍ لِسَامِهِمْ وَكَانَ الْأَقَارِبُ كَالْعَقَارِبِ تَأْبُرُ میں نے ان کے ظلم کی برداشت کی اور اس پر صبر کیا۔اور اقارب عقارب کی طرح نیش زنی کرتے تھے۔وَيَعْلَمُ رَبِّي سِرَّ قَلْبِي وَسِرَّهُمْ وَكُلُّ خَفِي عِندَهُ مُتَحَضّرُ اور میرا رب میرے بھید اور ان کے بھید کو جانتا ہے۔اور ہر ایک پوشیدہ اُس کے نزدیک حاضر ہے۔وَ لَيْسَ لِعَضْبِ الْحَقِّ فِى الدَّهْرِ كَاسِرٌ وَ مَنْ قَامَ لِلتَّكْسِيرِ بَغْيًا فَيُكْسَرُ اور خدا کی تلوار کوکوئی توڑنے والا نہیں۔اور جو توڑنا چاہے وہ خود ٹوٹ جائے گا۔وَ مَنْ ذَايُعَادِينِي وَإِنِّى حَبِيْبُهُ وَمَنْ ذَا يُرَادِيُنِى إِذِ اللَّهُ يَنْصُرُ اور کون میرا دشمن ہوسکتا ہے جبکہ خدا مجھے دوست رکھتا ہے۔اور کون سنگ اندازی کے ساتھ مجھ سے لڑائی کر سکتا ہے جبکہ خدا میر مدگار ہے۔وَلَوْكُنتُ كَذَّابًا كَمَا هُوَ زَعْمُهُمْ لَقَدْ كُنْتُ مِنْ دَهُرٍ أَمُوتُ وَأَقْبَرُ اور اگر میں جھوٹا ہوتا جیسا کہ اُن کا گمان ہے۔تو میں ایک مدت سے مرا ہوتا اور قبر میں داخل ہوتا۔يَظُنُّونَ أَنَّى قَدْ تَقَوَّلْتُ عَامِدًا بِمَكْرٍ وَ بَعْضُ الظَّنِّ إِثْمٌ وَ مُنْكَرُ وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ میں نے عمد اجھوٹ بنالیا اور مکر سے جھوٹ بنایا اور بعض ظن ایسے گناہ ہیں جو شرع اور عقل کو ان کے قبول کرنے سے انکار ہے۔وَ كَيْفَ وَإِنَّ اللَّهَ أَبْدَى بَرَائَتِي وَجَاءَ بِآيَاتٍ تَلُوحُ وَتَبْهَرُ اور یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے اور خدا نے تو میری بریت ظاہر کر دی۔اور وہ نشان دکھلائے جور وشن اور واضح ہیں۔وَيَأْتِيكَ وَعْدُ اللَّهِ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَى فَتَعْرِفُهُ عَيْنٌ تُحَدُّ وَ تُبْصِرُ اور خدا کا وعدہ اس طور سے تجھے پہنچے گا کہ تجھے خبر نہیں ہوگی۔پس اس کو وہ آنکھ شناخت کر یگی جو اس دن تیز اور بینا ہوگی۔اَمُكْفِرِ مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّهَكُم وَخَفْ قَهْرَ رَبِّ قَالَ لَا تَقْفُ ، فَاحْذَرُ اے میرے کافر کہنے والے ! اس غم و غصہ کو کچھ کم کر۔اور اس خدا سے ڈر جس نے کہا ہے لَا تَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ 66