القصائد الاحمدیہ — Page 316
۳۱۶ وَلَا تُلْهِكَ الدُّنْيَا عَنِ الدِّينِ وَالْهَوَى وَإِنَّ عَذَابَ اللهِ اَذْهَى وَاَكْبَرُ اور تجھے دنیا اور ہوا و ہوس دین سے نہ روکے۔اور خدا کا عذاب بہت سخت اور بڑا ہے۔وَلَا تَحْسَبِ الدُّنْيَا كَنَاطِفِ نَاطِفِى اَتَدْرِى بِلَيْلِ مَسَرَّةٍ كَيْفَ تُصْبِحُ اور دنیا کو شرینی کی طرح مت سمجھ جو شرینی بنانے والا تیار کرتا ہے۔کیا تو خوشی کی رات کو جانتا ہے کہ کس طرح صبح کر دیگا۔اَلَا تَتَّقِى الرَّحْمَنَ عِنْدَ تَصَنُّعِ وَمَنْ كَانَ أَتْقَى لَا أَبَالَكَ يَحْذَرُ کیا تُو خدا سے ڈرتا نہیں اور بناوٹ کرتا ہے۔اور جو شخص پر ہیز گار ہو وہ ضرور ڈرتا ہے۔أَلَا لَيْتَ شِعْرِى هَلْ تُشَاهِدُ بَعْدَنَا مَسِيحَا يَحُطُّ مِنَ السَّمَاءِ وَيُنذِرُ کاش مجھے سمجھ ہوتی۔کیا میرے بعد کوئی اور مسیح آسمان سے اترے گا اور ڈرائے گا؟ وَلِلَّهِ دَرُ مُذَكِّرِ قَالَ إِنَّهُ يُعَافُ الْهُدَى شِكْسٌ زَنِيمٌ مُّدَعْثَرُ اور اُس ڈرانے والے نے کیا اچھا کہا ہے۔کہ ایک بدخو ویران شدہ کمینہ ہدایت سے نفرت رکھتا ہے۔ذَكَرْتَ بِمُدَّ عِنْدَ بَحْشِكَ بِالْهَوَى أَحَادِيثَ ، وَالْقُرْآنَ تُلْغِى وَ تَهْجُرُ تو نے مقام مد میں بحث کرنے کے وقت کہا تھا کہ ہمارے پاس یہ احادیث ہیں اور قرآن کو تو محض نکتا اور باطل ٹھہرایا جا تا ہے۔نَبَذْتُمْ كَلَامَ اللهِ خَلْفَ ظُهُورِكُمْ تَرَكْتُمُ يَقِيْنَا لِلظُّنُون فَفَكَّرُوا تم لوگوں نے کلام اللہ کو پس پشت ڈال دیا۔اور تم نے ظن کی خاطر یقین کو چھوڑ دیا۔اب سوچ لو۔فَصَارَ كَآثَارٍ عَفَتْ وَتَغَيَّبَتْ مَدَارُ نَجَاةِ النَّاسِ يَا مُتَكَبِّرُ پس قرآن ایسا ہو گیا جیسا کہ آثار موشدہ اور چُھپ گیا۔وہی تو مدار نجات تھا۔اے متکبر ! وَإِنَّ شِفَاءَ النَّاسِ كَانَ بَيَانُهُ فَهَلْ بَعْدَهُ نَحْوَ الظُّنُونِ نُبَادِرُ اور اُس کا بیان لوگوں کے لئے شفا تھی۔پس کیا ہم قرآن چھوڑ کر ظنوں کی طرف دوڑیں؟ وَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّى تَأَلُّمًا إِذَا مَا سَمِعْتُ الْبَحْتَ يَا مُتَهَوِّرُ پس اس خیال سے میرے آنسو جاری ہو گئے جب میں نے تیری بحث کو اے بیباک ! سُنا۔