القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 315

۳۱۵ وَشَاهَدتَ أَنَّ الْقَوْمَ كَيْفَ تَدَاكَنُوا عَلَيَّ وَكَيْفَ رَمَوْا سِهَامًا وَّ جَمَّرُوا اور تو نے دیکھ لیا کہ قوم نے کیسے میرے پر بلوے کئے اور کیسے انہوں نے تیر چلائے اور کیسے وہ لڑائی پر جھے۔رَمَوْا كُلَّ صَخْرٍ كَانَ فِي اَذْيَالِهِمْ بِغَيْظِ فَلَمْ أَقْلَقَ وَلَمْ أَتَحَيَّرُ جس قدر پھر اُن کے دامن میں تھے سب پھینک دیئے۔اور یہ کام غصہ کے ساتھ کیا۔پس میں نہ بیقرار ہوا اور نہ حیران ہوا۔وَجُرِّحَ عِرْضِي مِنْ رِمَاحٍ إِهَانَةٍ وَأُلْقِيَ مِنْ سَبِّ إِلَيَّ الْخَنجَرُ اور میری آبر و اہانت کے نیزوں سے زخمی کی گئی اور دُشنام دہی سے میری طرف خنجر پھینکے گئے۔وَقَالُوا كَذُوبٌ مُّقْنِدٌ غَيْرُ صَادِقٍ فَقُلْنَا اخْسَنُوا إِنَّ الْخَفَايَا سَتَظْهَرُ اور انہوں نے کہا یہ جھوٹ دروغ گو ہے سچا نہیں۔ہم نے کہا کہ تم سب دفع ہو۔آخر یہ خفی حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔وَسَبُّوْا وَ أَذَرْنِي بِأَنْوَاعِ سَبِّهِمْ وَ سَمَّوْنِ دَجَّالًا وَّسَمَّوْنِ أَبْتَرُ اور مجھے گالیاں دیں اور طرح طرح کی گالیوں سے دُکھ دیا۔اور میرا نام دجال رکھا اور میرا نام شتر محض رکھا جس میں کوئی خیر نہیں۔وَ سَمَّوْن شَيْطَانًا وَّسَمَّون مُلْحِدًا وَسَمَّوْن مَلْعُونًا وَّ قَالُوا مُزَوِّرُ اور میرا نام شیطان رکھا اور میرا نام ملحد رکھا۔اور میرا نام لعنتی رکھا اور کہا کہ یہ ایک دروغ باف آدمی ہے۔فَصِرْتُ كَانّى لِلرِّمَاحَ دَرِيَّةٌ وَأُوْذِيَتُ حَتَّى قِيلَ عَبْدٌ مُّحَقَّرُ پس میں ایسا ہو گیا کہ میں تیروں کا نشانہ ہوں۔اور میں دُکھ دیا گیا یہاں تک کہ لوگوں نے کہا کہ یہ نہایت حقیر انسان ہے۔وَمَا غَادَرُوا كَيْدًا لَّدَوْسِي وَبَعْدَهُ عَلَيَّ حَضُّوا زُمُعَ الْأَنَاسِ وَتَوَّرُوا اور میرے چلنے کیلئے کس کر کواٹھا نہ کھا اور بعد اس کے۔میرے پرکمینہ لوگوں کو شتقل کیا اور برانگیختہ کیا۔وَلَكِنْ مَالُ الْأمْرِكَانَ هَوَانُهُمْ وَأُنْزِلَ لِي آي تُنِيرُ وَتَبْهَرُ مگر انجام کا راُن کی رُسوائی ہوئی۔اور میرے لئے وہ نشان ظاہر کئے گئے جو روشن اور غالب تھے۔فَأُوْصِيْكَ يَا رِدْفَ الْحُسَيْنِ اَبَا الْوَفَا اَنِبُ وَاتَّقِ اللَّهَ الْمُحَاسِبَ وَاحْذَرُ پس میں تجھے نصیحت کرتا ہوں اے محمد حسین کے پیچھے چلنے والے۔خدا کی طرف توبہ کر اور اُس مکاسب سے ڈر۔