القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 314

۳۱۴ و وَمَنْ يَكْتُمَنَّ شَهَادَةٍ كَانَ عِنْدَهُ فَسَوْفَ يَرَى تَعْذِيبَ نَارٍ تُسَعَرُ اور جو شخص اس گواہی کو پوشیدہ کر دیگا جو اس کے پاس ہے۔پس عنقریب وہ آگ کا عذاب دیکھے گا جو خوب بھڑکائی جائے گی۔فَلَا تَجْعَلُوا كِذَّبًا عَلَيْكُمُ عُقُوبَةً وَدَعْ يَاثَنَاءَ اللَّهِ قَوْلًا تُزَوِّرُ پس تم جھوٹ کو اپنے لئے وبال کا ذریعہ مت ٹھہراؤ۔اور اسے ثناء اللہ ! تو جھوٹ بولنا چھوڑ دے۔تَرَكْتَ طَرِيقَ كِرَامِ قَوْمٍ وَّ خُلْقَهُمْ هَجَوْتَ بِمُدَّ عَامِدًا لَّتُحَقِّرُ تو نے شریفوں کے خلق اور طریق کو چھوڑ دیا۔اور تو نے موضع مد میں قصد اہماری ہجو کی تاتو تحقیر کرے۔وَ شَتَّانَ مَابَيْنَ الْكِرَامِ وَبَيْنَكُمْ وَإِنَّ الْفَتَى يَخْشَى الْحَسِيْبَ وَيَحْذَرُ اور کہاں شریف اور کہاں تم لوگ۔اور نیک انسان خدا سے ڈرتا ہے اور بدی سے پر ہیز کرتا ہے۔تَرَكْنَاكَ حَتَّى قِيلَ لَا يَعْرِفُ الْقِلَى فَجِئْتَ خَصِيمًا أَيُّهَا الْمُسْتَكْبِرُ ہم نے تو تجھے چھوڑ دیا تھا یہاں تک کہ تم لوگ کہتے تھے کہ اب کیوں کچھ لکھتے نہیں ؟۔پس تو خود مقابلہ کے لئے آیا ہے اسے متکبر ! اَلَا أَيُّهَا اللَّعَانُ مَالَكَ تَهْجُرُ وَتَلْعَنُ مَنْ هُوَ مُرْسَلٌ وَّ مُوَفَّرُ اے لعنت کر نیوالے! تجھے کیا ہو گیا کہ بیہودہ بک رہا ہے۔اور تو اُس پر لعنت کر رہا ہے جو خدا کا فرستادہ اور خدا کی طرف سے عزت یافتہ ہے۔شَتَمْتَ وَمَا تَدْرِى حَقِيْقَةَ بَاطِنِي وَكُلُّ امْرِءٍ مِّنْ قَوْلِهِ يُسْتَفْسَرُ تو نے مجھے گالیاں دیں اور میرا حال تجھے معلوم نہیں۔اور ہر ایک انسان اپنے قول سے پوچھا جائے گا۔بَرُنَا على سَبِّ بِهِ آذَيْتَنَا وَلَكِنْ عَلَى مَاتَفْتَرِي لَا نَصْبِرُ ہم نے ان گالیوں پر تو صبر کیا جن کے ساتھ تو نے ہمارا دل دُکھایا لیکن وہ جو تو نے ہم پر افترا کیا اس پر ہم صبر نہیں کر سکتے۔وَ وَاللَّهِ إِنِّي صَادِقٌ لَسْتُ كَاذِبًا فَلَا تَهْلِكُوا مُسْتَعْجِينَ وَفَكِّرُوا اور خدا کی قسم ! کہ میں صادق ہوں کا ذب نہیں ہوں۔پس تم جلدی کر کے ہلاک مت ہوا اور خوب سوچ لو۔وَلَوْ كُنتُ كَذَّابًا شَقِيًّا لَضَرَّنِى عَدَاوَةٌ قَوْمٍ كَذَّبُونِي وَ كَفَرُوا اور اگر میں جھوٹا بد بخت ہوتا تو ضرور مجھے ان لوگوں سے نقصان پہنچتا جنہوں نے دشمنی سے مجھے جھٹلایا اور کا فرقرار دیا۔