القصائد الاحمدیہ — Page 313
۳۱۳ وَإِنْ كُنْتُ كَذَّابًا كَمَا هُوَ زَعْمُكُمْ فَكِيدُوا جَمِيعًا لِي وَلَا تَسْتَأْخِرُوا اور اگر میں تمہارے نزدیک جھوٹا ہوں۔تو میری بربادی کیلئے تم سب کوشش کرو اور پیچھے مت ہٹو۔وَ إِنَّ ضِيَائِي يَبْلُغُ الْأَرْضَ كُلَّهَا اَتُنْكِرُهَا فَاسْمَعُ وَإِنِّي مُذَكَّرُ اور میری روشنی دنیا میں پھیل جائے گی۔کیا تو انکار کرتا ہے؟ پس سن رکھ اور میں یاد دلاتا ہوں۔عَقَرْتَ بِمُدَّ صَحْبَتِي يَا أَبَا الْوَفَا بِسَبٌ وَّ تَوْهِينِ فَرَبِّي سَيَقْهَرُ اے ثناء اللہ ! تو نے مد میں ہمارے دوستوں کو رنج پہنچایا۔گالی سے اور توہین سے۔پس میرا خدا عنقریب غالب ہو جائیگا۔جَلَا لَكَ رَبِّي أَبْتَغِي لَا جَلَالَتِي وَأَنْتَ تَرَى قَلْبِي وَ عَزْمِي وَ تُبْصِرُ اے میرے خداوند ! میں تیرا جلال چاہتا ہوں نہ اپنی بزرگی۔اور تو میرے دل کو اور میرے قصد کو دیکھ رہا ہے۔إِلَيْكَ اَرُدُّ مَحَامِدِي رُدْتُ كُلَّهَا وَمَا أَنَا إِلا مِثْلُ ذَرْقٍ يُعَفَّرُ میں تیری طرف ان تمام تعریفوں کو رڈ کرتا ہوں جن کا میں قصد کرتا ہوں۔اور میں نہیں ہوں مگر ایک سرگین کی طرح جو خاک میں ملایا جاتا ہے۔وَقَالُوا عَلَى الْحَسَنَيْنِ فَضَّلَ نَفْسَهُ أَقُولُ نَعَمْ وَالله رَبِّي سَيُظهرُ اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔وَلَوْ كُنْتُ كَذَّابًا لَمَا كُنْتُ بَعْدَهُ كَمِثْلِ يَهُودِى وَّ مَنْ يَتَنَصَّرُ اور اگر میں جھوٹا ہوتا تو پھر اس کے بعد۔میں ایک یہودی اور مُرتد نصرانی کی مانند بھی نہ ہوتا۔وَلَكِنَّنِي مِنْ أَمْرِ رَبِّى خَلِيفَةٌ مَسِيحَ سَمِعْتُمْ وَعْدَهُ فَتَفَكَّرُوا مگر میں اپنے خدا کے حکم سے خلیفہ۔اور سیح موعود ہوں۔اب تم سوچ لو۔فَمَا شَأْنُ مَوْعُوْدٍ وَمَا فِيهِ عِنْدَكُمْ مِنَ الْقَوْلِ قَوْلِ نَبِيِّنَا فَتَدَبَّرُوا پس مسیح موعود کی کیا شان ہے اور تمہارے پاس اس کے باب میں۔بنی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا قول ہے؟ حَدِيثُ صَحِيحٌ عِنْدَكُمْ تَقْرَءُونَهُ فَلَا تَكْتُمُوا مَا تَعْلَمُونَ وَاظْهِرُوا تمہارے پاس ایک صحیح حدیث ہے جس کو تم پڑھتے ہو۔پس جو کچھ تم جانتے ہو اس کو پوشیدہ مت کرو اور ظا ہر کرو۔