القصائد الاحمدیہ — Page 309
اَنَا الْمُنْذِرُ الْعُرْيَانُ يَا مَعْشَرَ الْوَرى أَذَكِّرُكُمْ أَيَّامَ رَبِّي فَابْصِرُوا اے لوگو! میں ایک گھلا نذیر آیا ہوں۔خدا کے دن تمہیں یاد دلاتا ہوں۔بَلَاءٌ عَلَيْكُمْ وَالْعِلَاجُ إِنَابَةٌ وَبِالْحَقِّ أَنْذَرُنَا وَبِالْحَقِّ تُنْذِرُ تم پر ایک بلا ہے اور اس کا علاج تو بہ کرنا اور ہر ایک گناہ سے پر ہیز کرنا ہے۔ہم نے بچے طور پر متنبہ کر دیا اور کر رہے ہیں۔دَعُوا حُبَّ دُنْيَاكُمْ وَحُبَّ تَعَصُّبٍ وَمَنْ يَّشْرَبِ الصَّهْبَاءَ يُصْبِحُ مُسَكَّرُ , دنیا کی محبت اور تعصب کی محبت چھوڑ دو۔اور جو شخص رات کو شراب پیئے گا وہ صبح خمار کی تکلیف اُٹھائے گا۔وَكَمْ مِّنْ هُمُومٍ قَدْ رَأَيْنَا لِاجْلِكُمْ وَنَضْرَمُ فِي الْقَلْبِ اضْطِرَامًا وَّ نَضْجَرُ اور بہت غم ہم نے تمہارے لئے اُٹھائے۔اور اب بھی ہمارے دل میں تمہارے لئے آگ ہے جس کو ہم پوشیدہ رکھتے ہیں۔أَصِيحُ وَقَدْ فَاضَتْ دُمُوعِى تَأَلُّمًا وَقَلْبِي لَكُمْ فِي كُلِّ أَن يُوَفَّرُ میں آواز مارتا ہوں اور میرے آنسو درد سے جاری ہیں۔اور میر ادل ہر ایک دم تمہارے لئے گرم کیا جاتا ہے۔فَسَلْ أَيُّهَا الْقَارِي أَخَاكَ أَبَا الْوَفَا لِمَا يَخْدَعُ الْحَمْقَى وَقَدْ جَاءَ مُنْذِرُ پس اے قاری ! تو اپنے بھائی ثناء اللہ سے پوچھ۔کیوں احمقوں کو فریب دے رہا ہے اور ڈرانے والا آ گیا۔اَلَا رُبَّ خَصْمٍ قَدْ رَأَيْتُ جِدَالَهُ وَمَا إِنْ رَأَيْنَا مِثْلَهُ مَنْ يُزَوِّرُ خبر دار ہو! میں نے بہت بحث کرنے والے دیکھے ہیں۔مگر اُس جیسا فریبی میں نے کوئی نہیں دیکھا۔عَجِبْتُ لِمَبْحَثِهِ إِلَى ثُلُثِ سَاعَةٍ وَكَانَ مَحَلُّ الْبَحْثِ اَوْ كَانَ مَيْسِرُ مجھے تعجب آیا کہ اُس نے بحث کا زمانہ بیس منٹ مقرر کیا۔کیا یہ بحث تھی یا کوئی قمار بازی تھی ؟ اَمُكْفِرٍ مَهْلًا كُلَّمَا كُنْتَ تَذْكُرُ وَاَهْلِ كَمِثْلِى ثُمَّ أَنْتَ مُظَفَّرُ اے میرے کافر کہنے والے ! گذشتہ سب باتیں چھوڑ دے۔اور میری مانند قصیدہ لکھ پھر تو تیا۔رَضِيتُ بِأَنْ تَخْتَارَ فِي النَّمْقِ رُفْقَةً وَإِنَّا عَلَى إِمْلَاءِ هِمْ لَا نُعَيْرُ میں نے یہ بھی قبول کیا کہ اگر تو مقابلہ سے گرے تو اپنے رفیق بنالے۔اور ہم اُن کے لکھنے میں کوئی سرزنش تجھے نہیں کریں گے۔