القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 305

۳۰۵ وَلَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْجَوَابِ جَرِيمَةٌ فَنَهْدِى لَهُ كَالَا كُلِ مَا كَان يَبْذُرُ اور اس جواب میں ہم پر کوئی گناہ نہیں۔اور ہم اُس کو ہدیہ کے طور پر اس چیز کا پھل دیتے ہیں جو اُس نے بویا تھا۔فَإِنْ رَكُ كَذَّابًا فَيَأْتِي بِمِثْلِهَا وَإِنْ اَكَ مِنْ رَّبِّي فَيُغْشَى وَيُثْبَرُ پس اگر میں جھوٹا ہوں تو ایسا قصیدہ بنالائے گا اور اگر میں خدا کی طرف سے ہوں پس اس کی سمجھ پر پردہ ڈال دیا جائے گا اور روکا جائے گا۔وَهَذَا قَضَاءُ اللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لِيُظْهِرَ ايْتِهِ وَمَا كَانَ يُخْبِرُ اور یہ خدا کا فیصلہ ہے ہم میں اور ان میں تا اپنے نشانوں کو ظاہر کرے اور اس نشان کو ظاہر کرے جو پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔ـعُنَا بِهَذَا دَابِرَ الْقَوْمِ كُلِّهِمْ وَغَادَرَهُمْ رَبِّي كَغُصْنٍ تُجَدَّرُ ہم نے اس نشان سے سب کا فیصلہ کر دیا ہے اور میرے رب نے اُن کو ان شاخوں کی طرح کر دیا جو کاٹ دی جاتی ہیں۔أَرَى أَرْضَ مُدِّ قَدْ أُرِيدَ تَبَارُهَا وَغَادَرَهُمْ رَبِّي كَغُصْنٍ تُجَدَّرُ میں مدد کی زمین دیکھتا ہوں کہ اُس کی تباہی نزدیک آ گئی۔اور میرے رب نے اُن کو کٹی ٹہنی کی طرح کر دیا۔اَ يَا مُحْسِنِى بِالْحُمْقِ وَالْجَهْلِ وَالرُّغَا رُوَيْدَكَ لَا تُبْطِلُ صَنِيْعَكَ وَاحْذَرُ اے میرے محسن! اپنے جمق اور جہالت اور اونٹ کی طرح بولنے سے باز آجا اور اپنے احسان کو باطل نہ کر۔أَتَشْتِمُ بَعْدَ العَوْن وَالْمَنِّ وَالنَّدَى أَتَنْسى نَدَى مُدَّ وَّ مَا كُنتَ تَنْصُرُ کیا تو مدد اور حسان اور بخشش کے بعد گالیاں دے گا۔کیا تو اُس بخشش کو بھلا دے گا جو مد کے مقام میں تو نے کی اور بخشش کی۔تَرَى كَيْفَ أَغْبَرَتِ السَّمَاءُ بِآيِهَا إِذَا الْقَوْمُ آذَوْنِى وَ عَابُوا وَ غَبَّرُوا کو دیکھتا ہے کہ کس طرح آسمان نشانوں کی پر زور بارش کرنے لگا۔جب قوم نے مجھے دکھ دیا اور عیب نکالے اور گرد اٹھائی۔فَلَا تَتَخَيَّرُ سُبُلَ غَيٌّ وَشَقْوَةٍ وَلَا تَبْخَلَنْ بَعْدَ النَّوَالِ وَ فَكَّرُ اور گمراہی اور شقاوت کی راہ اختیار مت کر۔اور عطا کے بعد بخل مت کر اور سوچ لے۔وَلَا تَأْكُلُوا لَحْمِنُ بِسَبِّ وَغِيْبَةٍ وَلَحْمِنُ بِوَجْهِ الْحِبِّ سَمَّ مُدَمِّرُ اور گالی اور غیبت کے ساتھ میرا گوشت مت کھاؤ اور اُس دوست کے منہ کی قسم ! کہ میرا گوشت زہر ہلاک کرنے والا ہے۔