القصائد الاحمدیہ — Page 304
۳۰۴ دَعَوْهُ لِيَبْتَهِلَنْ لِمَوْتِ مُزَوِّرٍ مُّضِلَّ فَلَمْ يَسْكُتُ وَلَمْ يَتَحَسَّرُ اُس کو بلایا کہ جھوٹے کی موت کے لئے خدا کی جناب میں تضرع کرے۔وہ جھوٹا جو گراہ کرتا ہے پس ثناء اللہ اپنے شور سے چپ نہ ہوا اور نہ تھکا۔وَكَذَّبَ اعْجَازَ الْمَسِيحِ وِأيَهُ وَغَلَّطَهُ كِذبًا وَّ كَانَ يُزَوِّرُ اور کتاب اعجاز مسیح جو میری کتاب ہے اس کی اس نے تکذیب کی اور اس کے نشان فصاحت کی تکذیب کی اور جھوٹ کی راہ سے اسکو فاظ ٹھہرایا اورجھوٹ بولا۔وَقِيلَ لِإِمْلَاءِ الْكِتَابِ كَمِثْلِهِ فَقَالَ كَاهْلِ الْعُجُبِ إِنَّى سَاَسْطُرُ پس اس کو کہا گیا کہ اعجاز مسیح کی طرح کوئی کتاب لکھ۔پس اس نے خود نمائی سے کہا کہ میں لکھوں گا۔وَ اَنْكَرَ أَيَاتِي وَاَنْكَرَ دَعْوَتِی وَاَنْكَرَ الْهَامِي وَقَالَ مُزَوِّرُ اور میرے نشانوں سے انکار کیا اور میری دعوت سے انکار کیا۔اور میرے الہام سے انکار کیا اور کہا کہ ایک جھوٹا آدمی ہے۔وَكَذَّبَنِى بِالْبُخْلِ مِنْ كُلِّ صُورَةٍ وَخَطَّانِي فِي كُلِّ وَعْطٍ أَذَكِّرُ اور اُس نے ہر ایک صورت سے مجھے کا ذب ٹھہرایا۔اور ہر ایک وعظ میں جو میں نے کیا، مجھے خطا کی طرف منسوب کیا۔فَأفْرِدْتُ افْرَادَ الْحُسَيْنِ بِكَرُبَلَا وَ فِي الْحَيِّ صِرُنَا مِثْلَ مَنْ كَانَ يُقْبَرُ پس اُس جگہ میں اکیلا رہ گیا جیسا کہ حسین ارض کربلا میں اور اس قوم میں ہم ایسے ہو گئے جیسا کہ مردہ دفن کیا جاتا ہے۔تَصَدَّى لانكَارِی وَ اِنْكَارِايَتِی وَ كَانَ لِحِقْدِ كَالْعَقَارِبِ يَأْبُرُ میرے انکار اور میرے نشانوں کے انکار کیلئے پیش آیا۔اور وہ کینہ سے کثر دم کی طرح نیش زنی کرتا تھا۔فَقَدْ سَرَّنِي فِي هَذِهِ الصُّوَرِ صُورَةٌ لِيَدْفَعَ رَبِّي كُلَّمَا كَانَ يَحْشُرُ پس ان صورتوں میں مجھے ایک طریق اچھا معلوم ہوا۔تا میرا خدا اس طوفان کو دور کر دے جو اُس نے اٹھایا ہے۔فَالفُتُ هَذَا النَّظْمَ أَعْنِي قَصِيدَتِي لِيُخْزِيَ رَبِّي كُلَّ مَنْ كَانَ يَهْذِرُ پس میں نے یہ ظم یعنی یہ قصیدہ اپنا تالیف کیا۔تا میرا خدا ان لوگوں کو رسوا کرے جو بکواس کرتے ہیں۔وَهَذَا عَلَى إِصْرَارِهِ فِي سُؤَالِهِ فَكَيْفَ بِهَذَا السُّئَلِ أُغْضِي وَأَنْهَرُ اور یہ قصیدہ اس کے اصرار مقابلہ پر بنایا گیا ہے۔پس میں باوجود اس قدر سوال کے کیونکر چشم پوشی کروں اور کیونکر سائل کو جھڑک دوں۔ایسا اس وقت کہا جب ثناء اللہ کو تکذیب میں انتہا تک دیکھا اور ایسی لاف زنی کرتے اس کو مشاہدہ بھی کر لیا۔ا هذَا الشَّعُرُ مِنْ وَحْيِ اللَّهِ تَعَالَى جَلَّ شَانُهُ - منه