القصائد الاحمدیہ — Page 299
۲۹۹ ۵۰ الْقَصِيدَةُ الْإِعْجَازِيَةُ قصیدہ اعجاز یہ اَيَا أَرْضَ مُدِّ قَدْ دَفَاكِ مُدَمَّرُ وَاَرْدَاكِ ضِلَّيْلٌ وَ أَغْرَاكِ مُوْغِرُ اے مد کی زمین! ایک ہلاک شدہ نے تیری خستگی کی حالت میں تجھے ہلاک کیا۔اور سخت گمراہ کر نیوالے نے تجھے مارا اور ایک غصہ دلا نیوالے نے تجھے برانگیختہ کیا۔دَعَوْتِ كَذُوْبًا مُفْسِدًا صَيْدِيَ الَّذِي كَحُوْتِ غَدِيْرِاَخُذُهُ لَا يُعَدَّرُ تو نے ایک جھوٹے مفسر میرے شکار کو بلا لیا۔جس کا پکڑ ناڈھاب کی مچھلی کی طرح بڑا کام نہیں۔وَجَاءَكِ صَحْبِيُّ نَاصِحِينَ كَاخُوَةٍ يَقُولُونَ لَا تَبْغُوا هَوًى وَ تَصَبَّرُوا اور میرے دوست تیرے پاس آئے جو بھائیوں کی طرح نصیحت کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ ہواؤ ہوس کی طرف میل مت کرو اور صبر کرو۔فَظَلَّ أُسَارَاكُمُ أُسَارَى تَعَصُّبٍ يُرِيدُونَ مَنْ يَّعْوِى كَذِنُبٍ وَّ يَخْتِرُ پس تم میں سے وہ لوگ جو تعصب کے قیدی تھے۔انہوں نے چاہا کہ ایسا شخص تلاش کریں جو بھیڑیے کی طرح چینے اور فریب کرے۔فَجَاءُ وُا بِذِنْبِ بَعْدَ جُهْدِ أَذَابَهُمْ وَنَعْنِي ثَنَاءَ اللَّهِ مِنْهُ وَنُظْهِرُ پھر بہت کوشش کے بعد ایک بھیڑیے کو لائے۔اور مراد ہماری اس سے ثناء اللہ ہے اور ہم ظاہر کرتے ہیں۔فَلَمَّا أَتَاهُمْ سَرَّهُمْ مِّنْ تَصَلُّفٍ وَقَالَ افْرَحُوا إِنِّي كَمِيٌّ مُّظَفَّرُ پس جب اُن کے پاس آیا تو لاف زنی سے اُن کو خوش کر دیا۔اور کہا تم خوش ہو جاؤ میں بہادر فتحیاب ہوں۔وَقَالَ اسْتُرُوا أَمْرِى وَإِنِّى أَرُودُهُمْ أَخَافُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَفِرُّوا وَ يُدْبِرُوا اور کہا کہ میرے آنے کی بات پوشیدہ رکھو کہ میں اُن کو تلاش کر رہا ہوں۔اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ بھاگ نہ جائیں۔