القصائد الاحمدیہ — Page 298
۲۹۸ ۴۹ وَمَعْنَى الرَّجُمِ فِى هَذَا الْمُقَامِ كَمَا عُلِّمْتُ مِنْ رَبِّ الْأَنَامِ جیسا کہ مجھے مخلوقات کے رب کی طرف سے علم دیا گیا ہے اس مقام پر رحم کے معنی هُوَ الْأَعْضَالُ اِعْضَـالُ اللّنَامِ وَاسْكَاتُ الْعِدَا كَهْفِ الظَّلَامِ در ماندہ کرنا۔یعنی کمینوں کو عاجز کرنا اور دشمنوں کو خاموش کرانا ہیں جو تاریکی کی آماجگاہ ہیں۔وَضَرْبٌ يَخْتَلِى أَصْلَ الْخِصَامِ وَلَا نَعْنِي بِهِ ضَرْبَ الْحُسَامِ اور ایسی ضرب جو جھگڑے کی جڑ کاٹ کر رکھدے۔اور ضرب سے ہماری مراد تلوار کی ضرب نہیں ہے۔تَرَى الْإِسْلَامَ كُسْرَ كَالْعِظَامِ وَكَمْ مِنْ خَامِلٍ فَاقَ الْعِظَامِ تو دیکھتا ہے کہ اسلام کو ہڈیوں کی طرح تو ڑ کر رکھ دیا گیا ہے اور کتنے ہی گمنام ہیں جو عظیم شخصیات سے بھی بلند ہو گئے ہیں۔ادَى الْوَقْتُ أَيَّامَ الْإِمَامِ لِتُنْجَى الْمُسْلِمُونَ مِنَ السِّهامِ پس وقت نے ایک امام کے دنوں کو آواز دی ہے تاکہ مسلمان تیروں سے بچائے جائیں۔فَلَا تَعْجَلُ وَفَكِّرُ فِي الْكَلَامِ أَلَيْسَ الْوَقْتُ وَقَتَ الْاِنْتِقَامِ پس تو جلدی نہ کر اور (اس) کلام میں غور کر۔کیا یہ وقت انتقام کا وقت نہیں ہے۔أَرى فَوْجَ الْمَلَائِكَةِ الْكِرَامِ بِكَفِّ الْمُصْطَفَى أَضْحَى الزَّمَامِ میں ملائکہ کرام کے لشکر دیکھتا ہوں (جن کی ) باگ ڈور محمد مصطفے ( ﷺ ) کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔(اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۸۴)