القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 276

اَتُدْعِرُنَا كَالذُّنُبِ يَا كَلْبَ حِيْفَةٍ وَإِنَّا تَوَكَّلْنَا عَلَى حَافِظِ يَقِى اے مردار کے گتے کیا تو ہمیں بھیڑیے کی طرح ڈراتا ہے اور ہمیں اس نگہبان پر تو کل ہے جونگہ رکھنے والا ہے۔رَضِيْنَا بِرَبِّ يُظْهِرُ الْخَيْرَ وَالْهُدَى رَضِيْنَا بِعُسْرِ إِنْ قَضَى أَوْتَفَنَّقِ ہم خدا سے جو خیر اور ہدایت کو ظاہر کرتا ہے راضی ہو گئے اور ہم تنگدستی پر راضی ہو گئے اگر وہ چاہے اور یا تنعم پر۔أَأَنتَ تُؤَيَّدُ فَاسِقًا غَيْرَ صَالِحٍ اَحَلْتَ بِجَهْلِكَ أَيُّهَا الْغُولُ فَاتَّقِ کیا تو فاسق ہونے کی حالت میں مدد کیا جائے گا۔یہ تو کلمہ محال منہ پر لایا پس تو بہ کر۔وَإِنِّي إِذَا مَا قُمْتُ لِلَّهِ مُخْلِصًا فَايَّدَنِي رَبِّي مُعِيْنِي مُوَفِّقِى اور میں جب اخلاص سے خدا کے لئے کھڑا ہوا پس خدا توفیق دہندہ نے میری مدد کی۔وَكَانَ لِيَ الرَّحْمَنُ فِي كُلِّ مَوْطِنٍ فَمَزَّقْتُكُمُ بِاللَّهِ كُلَّ الْمُمَزَّقِ اور خدا میرے لئے ہر میدان میں تھا پس میں نے خدا کے ساتھ تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔وَأعْطِيتُ قَلمّا مِثْلَ مُنْجَرِدِ الْوَغَى فَيُسْعِرُ نِيرَانًا وَكَالْبَرْقِ يَخْفِقِ اور میں قلم لڑائی کے گھوڑے کی طرح دیا گیا ہوں پس آگ کو سلگاتی ہے اور برق کی طرح ہلتی ہے۔مِكَرٌ مِفَرٌ مُقْبِلٌ مُدْبِرٌ مَعًا كَدَأْبِ أَجَارِدَ عِنْدَ مَوْقَدِ مَازِقِ حملہ کر نیوالے بھاگنے والے آگے ہو نیوالے پیچھے ہو نیوالے جیسا کہ لڑائی کے میدان میں عمدہ گھوڑوں کی عادت ہے۔وَ إِنَّ يَرَاعِى صَارِمٌ يُحْرِقُ الْعِدَا كَنَارٍ وَمَا النِّيْرَانُ مِنْهُ بِأَحْرَقِ اور میر اقلم ایک تلوار ہے جو دشمنوں کو جلاتا ہے اور آگ اس سے کچھ زیادہ جلانے والے نہیں۔وَإِنَّ كَلَامِي مِثْلَ سَيْفِ مُقَطَّعِ يَجُدُّ رُؤُوسَ الْمُفْسِدِينَ وَيَفْرُقِ اور میرا کلام تیغ براں کی طرح ہے، مفسدوں کا سر کاٹتی اور جدا کرتی ہے۔وَإِنِّي إِذَا حَاوَلْتُ كَلِمًا فَصِيْحَةً فَنَاوَلَنِي رَبِّي أَفَانِيْنَ مَنْطِقِى اور جب میں نے خدا سے کلمات فصاحت طلب کئے پس میں اپنے رب سے گونا گوں فصاحت کلام دیا گیا۔