القصائد الاحمدیہ — Page 271
۲۷۱ وَوَاللَّهِ الْقَيْتُ الْمَرَاسِي لِلْعِدَا وَقُمْتُ لِسِلْمِ أَوْ لِحَرْبِ مُمَزِّقِ اور بخدا میں نے دشمنوں کے لئے لنگر ڈالا ہے اور میں صلح کیلئے کھڑا ہوں اور یا اس لڑائی کیلئے جوٹکرے ٹکڑے کر نیوالی ہے۔فَإِنْ جَنَحُوا لِلسّلْمِ فَالسّلْمُ دِيْنَنَا وَإِنْ نُدْعَ فِي الْهَيْجَاءِ لَمْ نَتَأَبَّقِ پس اگر صلح کے لئے جھکیں تو صلح ہمارا دین ہے اور اگر ہم لڑائی میں بلائے جائیں تو ہم پوشیدہ نہیں۔أَرَاهُمْ كَا رَامٍ وَعِيْنِ بِـصُوَرِهِمْ وَإِنَّ القُلُوبَ كَمِثْلِ حَجْرٍ مُدَمُلَقِ میں ان کو بظاہر صورت ہرنیوں اور گاؤشتی کی طرح دیکھتا ہوں اور دل ان کے پتھر کی طرح سخت ہیں۔وَ إِنْ تَبْغِنِي فِي نَدْوَةِ السّلْمِ تُلْفِنِي وَإِنْ تَدْعُنِي فِي مَوْطِنِ الحَرْبِ تَلْتَقِ اور اگر تو مجھے صلح کی مجلس میں بلائے گا تو مجھے وہاں پائے گا اور اگر تو مجھے جنگ کے میدان میں بلائے گا تو میں تجھے ملوں گا۔وَنَخْضَعُ لِلْاَعْدَاءِ قَبْلَ خُضُوعِهِمْ وَنَرْحَلُ بَعْدَ الْخَصْمِ مِنْ كُلِّ مَازِقِ اور ہم دشمنوں کیلئے جھکتے ہیں قبل اسکے جو وہ جھکیں اور ہم میدان سے جب تک دشمن کوچ نہ کرے کوچ نہیں کرتے۔فَإِنْ أَسْلَمُوا خَيْرٌ لَهُمْ وَلَئِنْ عَصَوْا فَنَكْلِمُهُمْ مِنْ بَعْدِهِ كَالْمُشَقَّقِ پس اگر اسلام لائے تو ان کیلئے بہتر ہے اور اگر نا فرمان ہوئے پس ہم بعدا سکے انکو ایسا مجروح کریں گے جیسا کہ کوئی پھاڑا جاتا ہے۔وَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ نَحْوِ عِشْرِينَ حِجَةٍ فَفَكِّرُ أَ هَذَا مُدَّةُ الْمُتَخَلَّقَ اور میں تمہارے پاس تخمینا بیس برس سے آیا ہوں۔پس سوچ کہ کیا یہ دروغ گو کی مدت ہے۔عَجِبْتَ عَمَاءً أَنْ أَكُونَ ابْنَ مَرْيَمَ وَإِنْ شَاءَ رَبِّي كُنْتُ أَعْلَى وَاسْبَقِ تو نے نابینائی سے تعجب کیا کہ میں ابن مریم ہو جاؤں اور اگر خدا چاہے تو میں اس مرتبہ سے بھی برتر ہو جاؤں۔وَتَذْكُرُ لَعْنَ الْخَلْقِ فِي أَمْرِ اتَمَ وَقَدْ لُعِنَ الْأَبْرَارُ قَبْلِي فَحَقِّقِ اور آتھم کے مقدمہ میں تو لوگوں کی لعنت کا ذکر کرتا ہے حالانکہ ہمیشہ پہلے اس سے نیکوں پر لعنت بھیجی گئی تو تحقیق کر لے۔وَإِنَّ الْوَرى عُمَى يَسُبُّونَ عُجُلَةً فَلَيْسَ بِشَيْءٍ لَعْنُهُمْ يَا ابْنَ أَحْمَقِ اور لوگ اندھے ہیں جلدی سے گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں پس ان کا لعنت کرنا اے ابن احمق کچھ چیز نہیں ہے۔