القصائد الاحمدیہ — Page 270
۲۷۰ وَإِنِّي مِنَ الْمَوْلَى وَ عُلِّمْتُ سُبُلَهُ وَأَعْطِيتُ حِكَمًا مِنْ خَبِيرٍ مُوَفِّقِ اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور حکیم توفیق دہندہ سے مجھے حکمتیں عطا ہوئی ہیں۔فَنَجَّيْتُ مِنْ بِدَعِ الزَّمَانِ وَفِتَنِهِ أَنَاسًا أَطَاعُونِي وَزَادُوا تَعَلُّقِى پس میں نے زمانہ کی بدعتوں اور فتنوں سے ان لوگوں کو نجات دی ہے جنہوں نے میری اطاعت کی اور میرا تعلق زیادہ کیا۔ا لَمْ تَرَ كَيْفَ يَشُقُّ فُلْكِى حُبَابَهَا وَتَجْرِى عَلَى رَاسِ الْعِدَا كَالمُصَفَّقِ یا تو دیکھتا ہیں کہ میری کشتی فتن کے بھاری پانی کو یونکر پھاڑ رہی ہے اور دشمنوں کے سروں پر ایسی چلتی ہے کہ ایک حال سے دوسرے حال تک پہنچاتی ہے۔وَأُعْطِيتُ مِنْ عِلْمِ الهُدَى وَتَأَفَّقَتْ بِنَا شَمْسُ جَلْوَتِهِ فَصِرْتُ كَمَشْرِقِ اور میں علم ہدایت دیا گیا اور اس کے جلوہ کا آفتاب مجھے پہنچا اور میری افق میں سے نکلا پس میں مشرق کی طرح ہو گیا۔وَلِى أَيَةٌ كُبرى فَمَنْ غَضَّ بَصَرَهُ عِنَادًا فَمَنْ يُعْطِيهِ عَيْنَ التَّأَتَّقِ اور میرے لئے نشان عظیم ہے پس جو شخص عناد سے اپنی آنکھ بند کرے اسکومحاسن پر غور کرنے کی کون آ نکھ بخشے۔اَلَمْ تَرَ فِتَنَ الدَّهْرِ كَيْفَ تَكَنَّفَتْ وَهَبَّتْ رِيَاحُ لَا كَهَيْجَانِ سَوْهَقِ کیا تو دیکھتا نہیں کہ زمانہ کے فتنے کیسے محیط ہو گئے اور ایسی ہوائیں چلیں جو تیز ہوا کا گرد با دکیا ہوتا ہے۔فَجِئْتُ مِنَ الرَّبِّ الَّذِي يَرْحَمُ الْوَرى وَيُرْسِلُ غَيْمًا عِنْدَ قَحْطٍ مُعَنُزَقِ پس میں اس رب کی طرف سے آیا جو خلقت پر رحم کرتا ہے اور بادل کو تنگ کر نیوالے قحط کے وقت بھیجتا ہے۔أَنَا الضَّيْغَمُ الْبَطْلُ الَّذِى تَعْرِفُونَهُ لِمَالُ الصَّدُوقِ مُبِيدُ أَهْلِ التَّخَلُّقِ میں وہ شیر بہادر ہوں جس کو تم پہچانتے ہو پناہ راستباز کی اور دروغ گو کو ہلاک کرنے والا۔عَلَى مَوْطِنٍ يَخْشَى الْكَذُوبُ هَلَاكَهُ نَقُومُ بِصَمْصَامٍ حَدِيدٍ وَاذْلَقِ اس میدان میں جو جھوٹا اپنی موت سے ڈرتا ہے۔ہم تیز تلوار کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔فَمَنْ جَاءَ نَا فِي مَوْطِنِ الْحَرْبِ وَالْوَغَى يُدَاسُ وَيُسْحَقُ كَالدَّوَاءِ الْمُدَقَّقِ پس جو شخص لڑائی کے میدان میں ہمارے پاس آیا پس وہ پیسا جائے گا جیسا کہ دوا پیسی جاتی ہے۔