القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 267

۲۶۷ وَتَبقى رجالُ اللَّهِ عِنْدَ نَهَابِر عَلَى النَّارِ تَفْنَى الْكَاذِبُونَ كَزِيْبَقِ اور خدا کے مردمصیبتوں کے وقت باقی رہتے ہیں اور جھوٹے آگ پر پارہ کی طرح فنا ہو جاتے ہیں۔إِذَا مَا بَدَتْ نَارٌ مِنَ اللَّهِ فِتْنَةٌ فَكُلُّ كَذُوْبِ لَا مَحَالَةَ يُحْرَقِ جس وقت خدا کی آگ آشکارا ہوتی ہے پس ہر ایک جھوٹا جلایا جاتا ہے۔وَمَنْ يُحْرِقُ الصِّدِّيقَ حِبَّ مُهَيْمِنِ فَطُوبَى لِمَنْ يُصْلَى بِنَارِ التَّوَمُّقِ اور صدیق کو جو خدا کا دوست ہے کوئی جلا نہیں سکتا پس مبارک وہ جود دوستی کی آگ سے جلتا ہے۔وَمَنْ كَذَّبَ الصِّدِّيقَ خُبْتًا وَفِرْيَةً فَيَسْفِيهِ اعْصَارٌ وَيُخْزِى وَيَسْفَقِ جو شخض خباثت اور جھوٹ کی راہ سے صدیق کی توہین کرے پس گرد باد کی ہوا اسے اڑالے جاتی اور اسے رسوا کرتی ہے اور اسکے منہ پرطمانچہ مارتی ہے وَمَهُمَا يَكُنُ حَقٌّ مِّنَ اللَّهِ وَاضِحٌ وَإِنْ رَدَّهَا زُمُرٌ مِّنَ النَّاسِ يَبْرُقِ اور جس جگہ حق واضح ہوا گر چہ لوگ اس کو ر د کر یں تب بھی وہ چمک اٹھتا ہے۔وَمَنْ كَانَ مُفْتَرِيًا يُضَاعُ بِسُرُعَهِ وَيَهْلِكُ كَذَّابٌ بِسَمِّ التَّخَلُّقِ اور مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور کاذب جھوٹ کے زہر سے مرجاتا ہے۔تَرى قَوْلَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَالِيًا كَنَبْتٍ خَبِيثِ الرِّيحِ مُرسَنَعْبَقِ تو اس کی بات کو ہر ایک نیکی سے خالی پائے گا جیسا کہ ایک پلید بوٹی بد بو والی کڑوی جس کا نام سنعبق ہے۔فَيُقْطَعُ نَبْتٌ لَا مُرِيحٌ وُجُودُهُ وَكُلُّ نَخِيلٍ لَامَـحَـــالَـةَ يَسْمَـقِ پس ایسی بوٹی کاٹ دی جاتی ہے جس کا وجود کچھ فائدہ نہیں دیتا اور ہر ایک کھجور کا درخت ضرور اپنی لمبائی تک پہنچ جاتا ہے۔وَإِنِّي مِنَ الْمَوْلَى عُذَيْقٌ مُرَجَبٌ فَيُعْرَقْ قَاطِعُ شَجُرَتِي كُلَّ مَعْرَقِ اور میں خداتعالی کی طرف سے دہکھجور ہوں جو ہار کر میں کے اسے نیچ ستون دیا گیا اس جوشخص میرے رخت کوقتل کرنا چاہے اسکے بدن سے گشت علیحدہ کیا جائیگا۔حَسِبْتُمْ قِتَالَ الصَّادِقِينِ كَهَيْنِ وَإِنَّ سِهَامَ الصَّادِقِينَ سَيَخْزِقِ تم نے صادقوں کی لڑائی کو آسان سمجھ لیا ہے اور صادقوں کے تیر آخر نشانہ پر لگا کرتے ہیں۔