القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 265

۲۶۵ وَسَرَّعُيُونَ النَّاظِرِينَ صَفَاءُهُ كَوَرْدِ طَرِيِّ الْجِسْمِ لَمْ يَتَشَقَّقِ اور دیکھنے والوں کے دلوں کو اسکی صفائی نے خوش کیا مثل گلاب کے پھول کے جو تازہ ہو اور پھٹا ہوا نہ ہو۔وَلَمَّا بَدَتْ رَوْضُ الْكَلَامِ تَضَعْضَعَتْ قُلُوْبُ الْعِدَا وَ تَوَارَدُوا بِالتَّانْقِ اور جب کلام کے باغ ظاہر ہوئے تو دشمنوں کے دل ہل گئے اور تعجب کرتے ہوئے ان باغوں میں داخل ہوئے۔وَقَدْ جَدَّ شَيْخُ الْمُبْطِلِينَ لِمَنْعِهُمْ فَهَلْ عِندَ شَوْقٍ غَالِبٍ مِّنْ مُعَوِّقِ اور شیخ بٹالوی نے انکے منع کرنیکے لئے کوشش کی مگر شائق کو کون روک سکتا ہے۔تَسَلَّتُ عِمَايَاتُ الهُنُودِ بِسَمْعِهَا وَمَاقَلَّ بُخْلُ الشَّيْحَ فَانْظُرُ وَ عَمِقِ ہندوؤں کے کورانہ خیال اس مضمون سے دور ہو گئے اور شیخ بٹالوی کا بخل دور نہ ہوا پس سوچ اور غور کر۔فَفَاضَتْ دُمُوعِى مِنْ تَذَكَّرِ بُخْلِهِ أَهَذَا هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ يَتَّقِى پس مجھے اس کے بخل کا خیال کر کے رونا آیا کیا یہ وہی شخص ہے جو پر ہر گاری دکھلاتا تھا۔إِذَا قَامَ لِلْإِسْمَاعِ شَيْخُ بَطَالَةٍ فَفَرَّتْ جُمُوعٌ كَارِهِينَ كَجَوْرَقِ اور جب سنانے کے لئے شیخ بٹالوی اٹھا تو اکثر لوگ کراہت کر کے شتر مرغ کی طرح بھاگے۔وَلَمَّا تَلَا الشَّيْخُ الْمُزَوِّرُمَا تَلَا فَكَانَ الْإِنَاسُ يَرَوْنَهُ كَيْفَ يَنْطِقُ اور جب شیخ دروغ آرا نے پڑھا جو پڑھا پس لوگ اس کو دیکھتے تھے کہ کیونکر پڑھتا ہے۔وَكَانَ يَعِتُ الْكَلِمَ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ وَيَأْتِي بِالْفَاظٍ كَصَخْرٍ مُدَمُلِقٍ اور وہ کلموں کو بغیر حاجت کے بار بار پڑھتا تھا اور بڑے بھاری پتھر کی طرح الفاظ لاتا تھا۔وَمَنْ سَمِعَ قَوْلِى قَبْلَهُ ظَنَّ أَنَّهُ لَدَى ثَمَرَاتِ الْعِذْقِ نَافِضُ عَسْبَقِ اور جو شخص میرا قول اس سے پہلے سن چکا تھاوہ خیال کرتا کہ کھجورکے پھلوں کے ہوتے ہوئے ایک کڑوے درخت کا پھل توڑ رہا ہے۔وَقَالَ أَرَى الْإِسْلَامَ كَالْجَوِّ خَالِيًا وَمَا إِنْ أَرَى الْأَيْتِ مِنْ صَالِحٍ تَقِى اور کہا کہ میں اسلام کو پول کی طرح خالی دیکھتا ہوں اور کوئی صاحب کرامت اس میں پایا نہیں جاتا۔