القصائد الاحمدیہ — Page 264
۲۶۴ جَزَى اللهُ عَنِّى مُخْلِصِي حِيْنَ قَرَءَهَا فَصَارَتْ مَضَامِينُ الْعِدَا كَالْمُمَزَّقِ میرے مخلص کو خدا جزائے خیر دے جبکہ اس نے وہ مضمون پڑھا۔پس دشمنوں کے مضمون پارہ پارہ ہو گئے۔وَكَانَ الْأَنَاسُ غَدَاةَ يَوْمِ قِيَامِهِ حِرَاصًا إِلَيْهِ كَمِثْلِ طِفْلِ لِبَلْعَقِ اور جس دن وہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اسکی طرف ایسے حریص تھے جیسا کہ ایک بچہ عمدہ کھجور کیلئے۔وَأَخْبَرَنِي مِنْ قَبْلُ رَبِّي بِوَحْيِهِ وَقَالَ سَيَعْلُو مَا كَتَبْتَ وَيَبْرُقِ اور خدا نے پہلے سے بذریعہ وحی مجھے خبر دی اور کہا کہ جو کچھ تو نے لکھا ہے غالب رہے گا اور اسکی چمک ظاہر ہوگی۔فَشَهِدَتْ جُدُورُ قُلُوبِهِمْ أَنَّهَا عَلَتْ وَفَاقَتْ وَرَاقَتْ كُلَّ قَلْبٍ كَصَمْلَقٍ پس انکے دلوں نے گواہی دی کہ وہ مضمون غالب رہا اور فائق ہوا اور ہر ایک سید ھے اور صاف دل کو اچھا معلوم ہوا۔تَرَاءَى بِعَيْنِ النَّاسِ حُسْنُ نِكَاتِهَا وَكَلِمَاتُهَا كَأَنَّهَا بَيْضُ عَقْعَقِ لوگوں کی نظر میں اس کے نکات اور کلمات ایسے دکھائی دیئے کہ گویا وہ عقیق کے انڈے ہیں۔فَوَقَعَتْ مَضَامِينِي عَلَى كُلِّ مُنْكِرٍ كَعَضْبٍ رَقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ مُشَقِّقِ پس میرے مضامین منکروں پر ایسے پڑے جیسے کہ ایک تلوار پتلے کنارہ والی پھاڑنے والی۔وَكُلٌّ مِّنَ الْأحْرَارِ الْقَوْا قُلُوبَهُمُ إِلَيْنَا بِصِدْقٍ غَيْرَ مَنْ كَانَ مُمْحَقِ اور تمام آزاد طبعوں نے اپنے دل ہماری طرف پھینک دیئے صدق کے ساتھ بجز ایسے شخص کے جو خیر و برکت سے بے نصیب تھا۔فَصِدْنَا بِكَلِمٍ كُلَّ صَيْدٍ مُعَظَّمٍ كَاسُدٍ وَّ نَمُرٍ غَيْرِ فَارٍ وَّ خَرْنَقِ پس ہم نے بڑے بڑے شکاروں کو شکار کر لیا۔مثل شیر اور چیتا کے اور چو ہا اور خرگوش با ہر ہ گیا۔وَتَرَكُوا لِقَوْلِى رَأْيَهُمْ فَكَأَنَّهُمْ خُذُولٌ آتَتْ تَرْعَى جَمِيْلَةَ مَنْطِقِى اور میرے قول کیلئے انہوں نے اپنے قول چھوڑ دیئے پس گویا کہ وہ منفرد ہر نیاں تھیں جو میرے سخن کے باغ میں چرنے لگیں۔عَلَى الْسُنِ قَدْ دَارَ ذِكْرُ كَلَامِنَا وَقَدْ هَنَّؤُوْنَا كَالْحَبِيْبِ الْمُشَوَّقِ اور زبانوں پر ہمارے کلام کا ذکر وارد ہوا اور دوست آرزومند کی طرح ہمیں مبارکباد دی۔