القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 249

۲۴۹ أُعْطِيتُ لسُنًا كَاللَّقُوحٍ مُرَوّبًا وَفَصِيلُهَا تَأْثِيرُهَا بِبَهَاءِ میں ایسے محاورات زبان دیا گیا ہوں جو بہت دور ھیل اونٹنی کی طرح سیراب کرنے والے ہیں اور اس کا بچہ اس کی خوبصورت تاثیر ہے۔اِنْ شِئْتَ كِدُكُلَّ الْمَكَائِدِ حَاسِدًا اَلْبَدْرُ لَا يَغْسُو بِلَغُي ضَرَاءِ اگر تو چاہے تو ہر ایک مکر حسد کرتے ہوئے کر گذر۔چودھویں کا چاند کسی اندھے کی لغو باتوں سے بے نور نہیں ہو جاتا۔كَذَّبُتَ صِدِّيقًا وَّجُرُتَ تَعَمُّدًا وَلَئِنْ سَطَا فَيُرِيْكَ قَعُرَ عَفَاءِ تو نے ایک صدیق کی تکذیب کی ہے اور عمد نا انصافی کی ہے اور اگر وہ تجھ پر حملہ کر دے تو تجھے زمین کی گہرائی دکھا دے گا۔مَاشَمَّ انْفِي مَرْغَمًا فِي مَشْهَدٍ وَأَثَرْتُ نَقْعَ الْمَوْتِ فِي الْأَعْدَاءِ میری ناک نے کسی جنگ میں ذلت کی بو نہیں سونگھی اور میں نے دشمنوں میں موت کا غبار اڑادیا ہے۔وَاللَّهِ أَخْطَأْتُمْ لِنَكْبَةِ بَخْتِكُمُ بَارَيْتُمُ ابْنَ كَرِيهَةٍ فَجَّاءِ خدا کی قسم اتم نے اپنی بدبختی کی وجہ سے غلطی کی ہے کہ اس شخص سے لڑائی ٹھانی ہے جولڑائی کا دھنی اور اچانک حملہ کرنے والا ہے۔اِنّى بِحِقْدِكَ كُلَّ يَوْمٍ أَرْفَعُ اَنْمِي عَلَى الشَّحْنَاءِ وَالْبَغْضَاءِ میں تیرے کمینے کی وجہ سے ہر روز بلند مرتبہ پارہاہوں اور باوجود تمہارے بغض اور کینے کے تر قی کررہا ہوں۔نِلْنَا ثُرَيَّاءَ السَّمَاءِ وَسَمْكَهُ لِنَرُدَّ إِيْمَانًا إِلَى الْغَبْرَاءِ ہم نے آسمان کے ثریا اور اس کی بلندی کو پالیا ہے تا کہ ہم ایمان کو زمین کی طرف لوٹائیں۔أَنْظُرُ إِلَى الْفِتَنِ الَّتِي نِيرَانُهَا تُجْرِي دُمُوعًا بَلْ عُيُونَ دِمَاءِ ان فتنوں کی طرف دیکھو جن کی آگیں آنسو جاری کرتی ہیں بلکہ خون کے چشمے۔فَا قَامَنِي الرَّحْمَنُ عِنْدَ دُخَانِهَا لِفَلاَح مُدَّلِجِينَ فِي اللَّيْلَاءِ ان فتنوں کے دھوئیں کے وقت خدائے رحمان نے مجھے کھڑا کیا ہے تاریک رات میں چلنے والوں کو نجات بخشنے کے لئے۔وَقَدِ اقْتَضَتُ زَفَرَاتُ مَرْضَى مَقْدَمِي فَحَضَرُتْ حَمَّالًا كُنُوسَ شِفَاءِ مریضوں کی آہوں نے میری آمد کا تقاضا کیا تو میں ان کے لئے شفا کے پیالے اٹھائے ہوئے حاضر ہو گیا۔