القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 248

۲۴۸ مَا نَا صَلُوْنِي ثُمَّ قَالُوا جَاهِلٌ أَنْظُرُ إِلَى إِبْدَائِهِمْ وَجَفَاءِ انہوں نے مجھ سے مقابلہ تو نہ کیا اور کہہ دیا کہ جاہل ہے۔ان کی ایذا اور ظلم کو دیکھ۔دَعْوَى الْحُمَاةِ يَلُوْحُ عِنْدَ تَقَابُلِ حَدُّ الظُّبَاةِ يُنيرُ فِي الْهَيْجَاءِ بہادروں کا دعوامی مقابلہ پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔تلواروں کی دھار جنگ میں ہی چمکتی ہے۔رَجُلٌ بِبَطْنِ بَطَالَةَ بَطَّالَةٌ تَغْلِى عَدَاوَتُهُ كَرَعْدِ طَخَاءِ ایک آدمی جو بٹالہ میں رہتا ہے بہت ہی ناکارہ ہے۔اس کی عداوت بادل کی گرج کی طرح جوش مارتی ہے۔لَا يَحْضُرُ الْمِضْمَارَ مِنْ خَوْفٍ عَرَا يَهْذِى كَنِسُـوَانٍ بِحُجُبِ خِفَاءِ اس خوف کی وجہ سے جو ا سے لاحق ہے وہ میدان میں نہیں آیا۔وہ پوشیدگی کے پردوں میں عورتوں کی طرح بدزبانی کرتا ہے۔قَدْ أثَرَ الدُّنْيَا وَجِيفَةَ دَشْتِهَا وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِّنْ حَيَاةِ غِطَاءِ اس نے دنیا اور اس کے جنگل کے مردار کو پسند کر لیا۔غافلانہ ومجو بانہ زندگی سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔يَاصَيْدَ أَسْيَافِي إِلَى مَا تَأْبُرُ لَا تُنْجِيَنَّكَ سِيْرَةُ الْأَطْلَاءِ اے میری تلوار کے شکار! تو کب تک اچھل کود کرے گا۔ہرن کے بچوں کا کردار تجھے نجات نہیں دے گا۔نَجَّسْتَ أَرْضَ بَطَالَةَ مَّنْحُوسَةٍ اَرْضٌ مَحَرُبَنَةٌ مِنَ الْحِرْبَاءِ تو نے بٹالہ کی منحوس زمین کو جو گر گٹوں کی آماجگاہ ہے نا پاک کر دیا ہے۔إِنِّي أُرِيدُكَ فِي النِّضَالِ كَصَائِدِ لَا يَرُكَنَنُ أَحَدٌ إِلَى ارُزَاءِ میں تجھے مقابلے میں شکاری کی طرح چاہتا ہوں پس چاہیے کہ کوئی تجھے پانہ دینے کی طرف مائل نہ ہو۔صَدْرُ الْقَنَاةِ يَنُوشُ صَدْرَكَ ضَرْبُهُ وَيُرِيكَ مُرَّانِى بِحَارَ دِمَاءِ نیزے کی اتقی کا یہ حال ہے کہ اس کی ضرب تیرے سینے کو چھید دے گی۔اور میرے لچکدارسخت نیزے تجھے خون کے دریا دکھا دیں گے۔جَاشَتُ إِلَيْكَ النَّفْسُ مِنْ كَلِمَاتِنَا خَوْفًا فَكَيْفَ الْحَالُ عِنْدَ مِرَائِى میرے کلمات سے خوف کے مارے تیری جان لبوں تک پہنچ گئی ہے تو مجھ سے مباحثہ کے وقت تیرا کیا حال ہوگا ؟