القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 247

۲۴۷ بَرْقٌ مِّنَ الْمَوْلَى نُرِيكَ وَمِيْضَهُ فَاصْبِرُ كَصَبَرِ الْعَاقِلِ الرَّنَّاءِ یہ مولی کی طرف سے بجلی ہے جس کی چمک ہم تجھے دکھا ئیں گے پس تو غور سے دیکھنے والے عاقل کی طرح صبر کر۔وَارَى تَغَيُّظَكُمْ يَفُوْرُ كَلُجَّةٍ مَوْجٌ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَوْ هَوْجَاءِ اور میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا غصہ گہرے پانی کی طرح جوش مار رہا ہے اس کی ہر سمندر کی لہر یا تند ہوا کی طرح ہے۔وَاللَّهِ يَكْفِى مِنْ كُمَاةٍ نِضَالِنَا جَلَدٌ مِّنَ الْفِتْيَان لِلاعْدَاءِ خدا کی قسم ! ہمارے جنگجو بہادروں میں سے ایک جواں مرد دلیر ہی سب دشمنوں کے لئے کافی ہوگا۔إِنَّا عَلَى وَقْتِ النَّوَائِبِ نَصْبِرُ نُزْجِي الزَّمَانَ بِشِدَّةٍ وَّ رَخَاءِ بے شک مصیبتوں کا وقت آنے پر ہم صبر کرتے ہیں ہم تنگی اور فراخی کی حالت میں زمانہ گزار دیتے ہیں۔فِتَنُ الزَّمَانِ وُلِدْنَ عِنْدَ ظُهُورِكُمْ وَالسَّيْلُ لَا يَخْلُو مِنَ الْغُفَّاءِ تمہارے ظاہر ہوتے ہی زمانہ کے فتنے پیدا ہو گئے اور فتنوں کا سیلاب خس و خاشاک سے خالی نہیں ہوتا۔عِفْنَا لُقَيَّاكُمْ وَلَا اسْتَكْرِهُ لَوْحَلَّ بَيْتِي عَاسِلُ الْبَيْدَاءِ ہم تمہارے مقابلے سے کراہت کرتے ہیں حالانکہ میں نہیں کراہت کرتا اگر چہ میرے گھر میں جنگل کا بھیڑیا ہی اتر پڑے۔اليومَ أَنْصَحُكُمْ وَكَيْفَ نَصَاحَتِى قَوْمٌ أَضَاعُوا الدِّينَ لِلشَّحْنَاءِ آج میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔اور میری نصیحت سے کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہے وہ قوم جس نے دین کو کینے کی وجہ سے ضائع کر دیا۔قُلْنَا تَعَالَوْا لِلنّضَالِ وَنَاضِلُوا فَتَكَنَّسُوا كَالظَّبْي فِي الْأَفْلَاءِ ہم نے کہا کہ مقابلے کے لئے آؤ اور مقابلہ کرو پس وہ چھپ گئے جس طرح ہرن بیابانوں میں چھپ جاتا ہے۔لَا يُبْصِرُونَ وَلَا يَرَوْنَ حَقِيقَةً وَتَهَالَكُوا فِي بُخْلِهِمْ وَرِيَاءِ وہ بصیرت اختیار نہیں کرتے اور نہ حقیقت حال کو دیکھتے ہیں اور اپنے بخل اور ریاء میں مرچکے ہیں۔هَلْ فِي جَمَاعَتِهِمْ بَصِيرٌ يَّنْظُرُ نَحْوِي كَمِثْلِ مُبَصِّرٍ رَّنَّـاءِ کیا ان کی جماعت میں کوئی بصیرت مند ہے جو دیکھے۔میری طرف ایک غور کرنے والے مبصر کی طرح۔