القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 246

۲۴۶ إِنَّ الَّذِ أَرْوَى الْمُهَيْمِنُ قَلْبَهُ تَأْتِيهِ أَفْوَاجٌ كَمِثْلِ ظِمَـاءِ وہ شخص جس کے دل کو خدائے نگہبان نے سیراب کر دیا ہو اس کے پاس فوجوں کی فوجیں پیاسوں کی طرح آتی ہیں۔رَبُّ السَّمَاءِ يُعِزُّهُ بِعِنَايَةٍ تَعْنُوا لَهُ أَعْنَاقُ أَهْلِ دَهَاءِ آسمان کا مالک اپنی عنایت سے اسے عزت دیتا ہے اور عقلمندوں کی گردنیں اس کے آگے جھک جاتی ہیں۔اَلْاَرْضُ تُجْعَلُ مِثْلَ غِلْمَانِ لَّهُ تَأْتِي لَهُ الْأَفَلَاكُ كَالْخُدَمَاءِ زمین اس کے لئے غلاموں کی طرح بنادی جاتی ہے اور آسمان اس کے لئے خادموں کی طرح ہو جاتے ہیں۔مَنْ ذَالَّذِي يُخْزِى عَزِيزَ جَنَابِهِ الْأَرْضُ لَا تُفْنِى شُمُوْسَ سَمَاءِ وہ کون ہے جو جناب الہی کے پیارے کو ذلیل کرے آسمان کے سورجوں کو زمین فنا نہیں کر سکتی۔الْخَلْقُ دُودْ كُلُّهُمْ إِلا الَّذِى زَكَّاهُ فَضْلُ اللَّهِ مِنْ أَهْوَاءِ خلقت ساری کی ساری کیڑے کی حیثیت رکھتی ہے سوائے اس شخص کے جسے اللہ کے فضل نے ہوا و ہوس سے پاک کر دیا ہو۔فَانْهَضْ لَهُ إِنْ كُنْتَ تَعْرِفُ قَدْرَهُ وَاسْبِقُ بِبَذْلِ النَّفْسِ وَالْإِعْدَاءِ پس تو اس شخص کی خاطر اٹھا اگر تو اس کی قدر پہچانتا ہے اور نفس کو قربان کرنے اور دوڑانے میں سبقت لے جا۔إِنْ كُنْتَ تَقْصُدُ ذُلَّهُ فَتُحَقِرُ وَسَتَخْسَتَنُ كَالْكَلْبِ يَوْمَ جَزَاءِ اگر تو اس کی ذلت چاہتا ہے تو تو خود حقیر کیا جائے گا اور کتے کی طرح جزا کے دن راندہ درگاہ ہوگا۔غَلَبَتْ عَلَيْكَ شَقَاوَةٌ فَتُحَقِّرُ مَنْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ كُرَمَاءِ تجھ پر بدبختی غالب آگئی ہے سوتو حقیر جانتا ہے اس شخص کو جو اللہ کے نزدیک معززین میں سے ہے۔صَعَبٌ عَلَيْكَ سِرَاجُنَا وَضِيَاءُنَا تَمْشِي كَمَشْيِ اللَّيِّ فِي اللَّيْلَاءِ ہمارا چراغ اور ہماری روشنی تجھ پر گراں ہے تو اندھیری رات میں چوروں کی طرح چل رہا ہے۔تَهُذِى وَايْمُ اللَّهِ مَالَكَ حِيْلَةٌ يَوْمَ النُّشُور وَعِندَ وَقْتِ قَضَاءِ تو بیہودہ گوئی کر رہا ہے اور بخدا قیامت کے دن اور فیصلے کے وقت تیرے لئے کوئی حیلہ نہ ہوگا۔