القصائد الاحمدیہ — Page 241
۲۴۱ مَابَقِيَ فِيهِمْ عِفَّةٌ وَّزَهَادَةٌ لَا ذَرَّةٍ مِّنْ عِيْشَةٍ خَشْنَاءِ ان میں کوئی عفت اور پر ہیز گاری باقی نہیں رہی اور نہ ہی مجاہدانہ زندگی کا کوئی ذرہ باقی ہے۔قَعَدُوا عَلَى رَأْسِ الْمَوَائِدِ مِنْ هَوَى فَرُّوا مِنَ الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وہ حرص و ہوا کی وجہ سے دستر خوانوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تکلیفوں اور سختیوں سے بھاگ نکلے ہیں۔جَمَعُوا مِنَ الْأَوْبَاشِ حِزْبَ اَرَاذِلِ فَكَأَنَّهُمْ كَالْخَتَى لِلِاحْمَاءِ انہوں نے اوباش لوگوں میں سے کمینوں کا ایک گروہ جمع کر لیا گویا کہ اوپلوں کی طرح ہیں جوحرارت حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔لَمَّا كَتَبْتُ الْكُتُبَ عِنْدَ غُلُوِّهِمْ بِبَلاغَةٍ وَّعَدُوبَةٍ وَّ صَفَاءِ اور جب میں نے ان کے غلو کے وقت کتابیں لکھیں جو بلاغت شیرینی اور وضاحت سے پر تھیں۔قَالُوا قَرَأْنَا لَيْسَ قَوْلًا جَيْدًا اَوْ قَوْلُ عَارِبَةٍ مِنَ الْأَدَبَاءِ انہوں نے کہا ہم نے پڑھ لی ہیں (یہ) کوئی عمدہ بات نہیں ہیں۔یہ ادیبوں میں سے کسی ماہر عرب کا قول ہے۔عَرَبٌ أَقَامَ بِبَيْتِهِ مُتَسَبِّرًا أَمْلَى الْكِتَابَ بِبُكْرَةٍ وَمَسَاءِ کوئی فصیح (ادیب) ہے جو اس گھر میں پوشیدہ طور پر ٹھہرا ہوا ہے اور وہی صبح و شام کتاب لکھواتا ہے۔أنْظُرُ إِلى أَقْوَالِهِمْ وَتَنَاقُضِ سَلَبَ الْعِنَادُ اصَابَةَ الْأَرَاءِ تو ان کی باتوں اور (ان کے ) تضاد کو دیکھ دشمنی نے ان سے صحیح رائے سلب کر لی ہے۔طَوْرًا إِلى عَرَب عَزَوْهُ وَتَارَةً قَالُوا كَلَامٌ فَاسِدُ الْإِمْلَاءِ کبھی تو نے میرے کلام کوکسی عرب کی طرف منسوب کیا اور کبھی یہ کہا کہ اس کلام کی املاء خراب ہے۔هذَا مِنَ الرَّحْمَنِ يَا حِزْبَ الْعِدَا لَا فِعْلُ شَامِيٌّ وَّ لَا رُفَقَائِي اے دشمنوں کے گروہ ! یہ تو خدائے رحمان کی طرف سے ہے نہ یہ کسی شامی کا فعل ہے نہ میرے رفیقوں کا۔أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ شَأْنَنَا وَعُلُوْمَنَا نَبْنِي مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوَازَاءِ خدائے نگہبان نے ہماری شان اور علوم کو بلند کر دیا ہے اس لئے ہم اپنی منزلیں بُرج جوزا پر بنارہے ہیں۔