القصائد الاحمدیہ — Page 240
۲۴۰ أَعْمَى قُلُوْبَ الْحَاسِدِينَ شُرُوْرُهُمْ أَعْرَى بَوَاطِنَهُمْ لِبَاسُ رِيَاءِ حاسدوں کے دلوں کو ان کی شرارتوں نے اندھا کر دیا ہے اور ان کے اندرونے کوریا کے لباس نے نگا کر دیا ہے۔أذَوْا وَفِي سُبُل الْمُهَيْمِن لَانَرَى شَيْئًا اَلذَّ لَنَا مِنَ الْإِيْدَاءِ انہوں نے دکھ دیا اور خدائے مھیمن کی راہ میں ہم کسی شے کو دکھ پانے سے زیادہ لذیذ نہیں سمجھتے۔مَا إِنْ أَرَى أَثْقَالَهُمْ كَجَدِيدَةٍ إِنِّى طَلِيحُ السَّفْرِ وَالْأَعْبَاءِ میں ان کے بوجھوں کو کوئی نئے بوجھ نہیں پاتا میں سفروں اور بوجھوں کا عادی اور مشتاق ہوں۔نَفْسِي كَعُسُبُرَةٍ فَاحْنِقَ صُبُلُهَا مِنْ حَمْلِ إِبْدَاءِ الْوَرى وَجَفَاءِ میر انفس اونٹنی کی طرح ہے سو اس کی پشت لاغر کر دی گئی ہے مخلوق کے ظلم و ایذاء اٹھانے سے۔هذَا وَرَبِّ الصَّادِقِينَ لَاجْتَنِى نِعْمَ الْجَنَى مِنْ نَّخْلَةِ الأَلَاءِ اس بات کو پلے باندھ لے۔اور بچوں کے رب کی قسم ہے کہ میں نعمتوں کی کھجور سے اچھے میوے چتا ہوں۔إِنَّ اللّنَامَ يُحَقِّرُونَ وَذَمُّهُمْ مَازَادَنِي إِلا مَقَامَ سَنَاءِ کمینے لوگ تو میری تحقیر کرتے ہیں اور ان کی مذمت مجھے صرف رفعت کے مقام میں ہی بڑھاتی ہے۔زَمَعُ الأُنَاسِ يُحَمُلِقُونَ كَشَعْلَبٍ يُؤْذُونَنِي بِتَحَوُّبٍ وَّمُوَاءِ رذیل لوگ لومڑی کی طرح مجھے گھورتے ہیں اور مجھے لومڑی اور بلی کی آواز نکال کر دکھ دیتے ہیں۔وَاللَّهِ لَيْسَ طَرِيقُهُمْ نَهْجَ الْهُدَى بَلْ مُنْيَةٌ نَّشَأَتُ مِنَ الأهْوَاءِ اللہ کی قسم ! ان کا طریق ہدایت کا طریق نہیں بلکہ ایک ایسی آرزو ہے جو حرص و ہوا سے پیدا ہوئی ہے۔أَعْرَضْتُ عَنْ هَدَيَانِهِمْ بِتَصَامُمٍ وَحَسِبْتُ أَنَّ الشَّرَّ تَحْتَ مِرَاءِ میں نے ان کے ہذیان سے بہرہ بن کر اعراض کیا اور میں نے جان لیا کہ بحث مباحثہ کے نیچے شر (مخفی) ہے۔حَسِبُوا تَفَضُّلَهُمْ لَاجُلِ تَصَبُّرِى فَعَلَوُا كَمِثْلِ الدُّةٌ مِنْ اغْضَائِي میرے صبر کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو غالب سمجھ لیا۔تو میری چشم پوشی کی وجہ سے انہوں نے دھوئیں کی طرح بلندی کا اظہار کیا۔