القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 13

أَلَا يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةُ تَذَكَّرُ يَوْمَ قُرُبِ الْإِرْتِحَالِ اے کمینی دنیا کے طالب ! ( دنیا سے ) کوچ کے قریب ہونے کے دن کو یا دکر۔سِهَامُ الْمَوْتِ تَفْجَأُ يَا عَزِيزِى وَلَوْ طَالَ الْمَدَى فِي الْإِنْتِقَالِ اے میرے عزیز ! موت کے تیر اچانک آ لگتے ہیں خواہ ( دنیا سے ) انتقال کی مدت لمبی بھی ہو جائے۔هَدَاكَ اللهُ قَدْ جَادَلُتَ بُغْضًا وَمَافَكَّرُتَ فِي قَوْلِي وَ قَالِي خدا تجھے ہدایت دے۔تو نے بغض کی وجہ سے جھگڑا کیا ہے اور میری بات میں غور نہیں کیا۔وَكَمْ أَكْفَرْتَنِي كِذبًا وَزُورًا وَكَمْ كَذَّبُتَ مِنْ زَيعَ الْخَيَالِ اور تو نے جھوٹ اور دروغ گوئی سے میری بہت تکفیر کی ہے اور اپنی کج خیالی سے میری بہت تکذیب کی ہے۔وَ إِنِّي قَدْ أَرى قَدْ ضَاعَ دِيْنُكَ فَقُمْ وَارْبَأْ بِهِ قَبْلَ الرِّحَالِ اور یقیناً میں دیکھتا ہوں کہ تیرا دین ضائع ہو گیا ہے پس اٹھ اور کوچ سے پہلے اسے سنبھال لے۔حَيَاتُكَ بِالتَّغَافِلِ نَوْعُ نَوْمٍ وَأَيَّامُ الْمَعَاصِي كَاللَّيَالِي تیری غافلانہ زندگی ایک قسم کی نیند ہے اور گناہوں کے ایا م راتوں کی طرح ہیں۔وَ لَسْتُ بِطَالِبِ الدُّنْيَا كَزَعْمِكَ وَقَدْ طَلَّقْتُهَا بِالْإِعْتِزَالِ اور میں ہرگز طالب دنیا نہیں ہوں جیسا کہ تیرا خیال ہے۔میں نے تو گوشہ نشینی کے ذریعہ اسے طلاق دے دی ہے۔تَرَكْنَا هَذِهِ الدُّنْيَا لِوَجُهِ وَاثَرُنَا الْجَمَالَ عَلَى الْحِمَالِ ہم نے یہ دنیا ایک چہرے کی خاطر چھوڑ دی ہے اور ہم نے اس کے جمال کو جمال یعنی اونٹوں پر ترجیح دی ہے۔وَ إِنَّكَ تَزْدَرِى نُطْقِي وَقَوْلِى وَلَوْصَادَفَتَهُ مِثْلَ اللَّالِي تو میرے کلام اور میری بات کو حقیر سمجھتا ہے خواہ تُو نے اسے موتیوں کی مانند پایا ہو۔فَلَا تَنْظُرُ إِلى زَحْفٍ فَإِنِّي نَظَمْتُ قَصِيدَتِي بِالْإِرْتِجَالِ پس تو (اس میں ) کسی نقل کے بارے میں سوچ بچار نہ کر کیونکہ میں نے تو اپنے قصیدہ کوفی البدیہ کہا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۴ تا۵۹۶)