القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 212

۲۱۲ لا يُبْصِرُ الْكُفَّارُ نُورَ جَمَالِهِ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةِ غِشَاءِ کفار اس کے جمال کا نو ر نہیں دیکھ سکتے۔بے ہوشی کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔إِنَّا بُرَاءٌ فِى مَنَاهِجِ دِينِهِ مِنْ كُلِّ زِنْدِيقٍ عَدُوٌّ دَهَاءِ ہم اس کے دین کے راستوں میں چلتے ہوئے ) ہر زندیق اور عقل کے دشمن سے بیزار ہیں۔نَخْتَارُ أَثَارَ النَّبِيِّ وَآمُرَهُ نَقْفُوْ كِتَابَ اللَّهِ لَا الْأَرَاءِ ہم نبی صلی اللہ وسلم کے آثار اور احکام کو اختیار کرتے ہیں ہم اللہ کی کتاب کی پیروی کرتے ہیں نہ کہ آراء کی۔يَامُكَفِرِى إِنَّ الْعَوَاقِبَ لِلتَّقى فَانُظُرُ مَالَ الأمْرِ كَالْعُقَلَاءِ اے میری تکفیر کرنے والے انجام بخیر تومنی کا ہوتا ہے پس عقلمندوں کی طرح کاموں کے انجام پر نظر رکھ۔إِنِّي أَرَاكَ تَمِيسُ بِالْخُيَلَاءِ أَنَسِيتَ يَوْمَ الظَّعْنِ وَالْإِسْرَاءِ میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو مٹک کر ناز سے چلتا ہے کیا تو سفر کا دن اور رات کی روانگی بھول گیا ہے۔تُبْ أَيُّهَا الْغَالِي وَتَأْتِي سَاعَةٌ تُمْسِى تَعَضُّ يَمِيْنَكَ الشَّلَّاءِ اے حد سے گذر جانے والے تو بہ کر۔وہ گھڑی آتی ہے کہ تو اپنے بے حس ہاتھ کو دانتوں سے کاٹے گا۔افَتَضْرِبَنَّ عَلَى الصَّفَاةِ زُجَاجَةً هَوِّنُ عَلَيْكَ وَلَا تَمُتُ بِابَاءِ کیا تو پتھر کی سل پر شیشہ کو مارتا ہے۔اپنے پر رحم کر متکبرانہ انکار سے ہلاک مت ہو۔غَرَّتُكَ أَقْوَالٌ بِغَيْرِ بَصِيرَةٍ سُتِرَتْ عَلَيْكَ حَقِيقَةُ الْأَنْبَاءِ بے بصیرت اقوال نے تجھے دھو کہ دیا ہے تجھ پر پیشگوئیوں کی حقیقت پوشیدہ کر دی گئی ہے۔إِنَّ السُّمُوْمَ لَشَرُّ مَا فِي الْعَالَمِ وَمِنَ السُّمُوْمِ غَوَائِلُ الْأَرَاءِ یقین از ہر دنیا میں سب سے بُری چیز ہیں اور گمراہ آراء بھی زہروں میں سے ایک زہر ہیں۔جَاوَزْتَ بِالتَّكْفِيرِ عَرَصَاتِ التَّقَى أَشَقَقْتَ قَلْبِي أَوْ رَأَيْتَ خَفَائِي تکفیر کر کے تو تقوی کے میدانوں کو پھلانگ گیا ہے۔کیا تو نے میرا دل چیرا ہے یا میرا کوئی پوشیدہ گناہ دیکھا ہے۔