القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 12

۱۲ وَ كَمْ سِرٍ أَرَانِى نُورُ رَبِّي وَ آيَاتٍ عَلَى صِدْقِ الْمَقَالِ اور بہتیرے بھید میرے رب کے نور نے مجھے دکھائے اور میری باتوں کی سچائی پر نشانات بھی دکھائے ہیں۔وَ عِلْمٍ يَبْهَرَنَّ عُقُوْلَ نَاسٍ وَ رَأْيِ قَدْ عَلَا قُنَنَ الْجِبَالِ اور بہت سا علم بھی دیا جو مخالف لوگوں کی عقلوں پر غالب آجائیگا اور بہت سے افکار دیئے جو پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی بلند ہیں۔سَعَيْتُ وَ مَا وَنَيْتُ بِشَوْقِ رَبِّي إِلَى أَنْ جَاءَ نِي رَيَّا الْوِصَالِ میں نے اپنے رب کے اشتیاق میں کوشش جاری رکھی اور کوئی سستی نہ کی یہاں تک کہ مجھے وصالِ الہی کی خوشبو آ گئی۔وَقَدْ أُشْرِبْتُ كَاسًا بَعْدَ كَأْسٍ إِلَى أَنْ لَاحَ لِى نُورُ الْجَمَالِ اور مجھے پیالے پر پیالہ پلایا گیا یہاں تک کہ مجھ پر جمال حقیقی کا نور جلوہ گر ہو گیا۔وَقَد أُعْطِيتُ ذَوُقًا بَعْدَ ذَوُقٍ وَنَعْمَاءَ الْمَحَبَّةِ وَالدَّلَالِ اور مجھے ذوق پر ذوق دیا گیا اور محبت اور ناز کی نعمتیں بھی دی گئیں۔وَجَدْتُ حَيَاتَ قَلْبِي بَعْدَ مَوْتِى وَ عَادَتْ دَولَتِى بَعْدَ الزَّوَالِ میں نے اپنی فنا کے بعد دل کی زندگی کو پالیا اور میری دولت جاتے رہنے کے بعد لوٹ آئی۔لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكْلِى وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي دستر خوانوں کا پس خوردہ میری خوارک تھا اور آج میں کئی گھرانوں کو کھلانے والا بن گیا ہوں۔أَزِيدُ بِفَضْلِهِ يَوْمًا فَيَوْمًا وَأُصْلِى قَلْبَ مُنْتَظِرِ الْوَبَالِ میں اس کے فضل سے دن بدن ترقی کر رہا ہوں۔اور ہلاکت کے منتظر کے دل کو جلا رہا ہوں۔اَلَا يَا حَاسِدِى خَفْ قَهُرَ رَبّى وَمَا آلُوْكَ نُصْحًا فِي الْمَقَال اے میرے حاسد! میرے رب کے قہر سے ڈر اور میں تیری خیر خواہی کی بات کہنے میں کوتاہی نہیں کرتا۔فَلَا تَسْتَكْبِرَنَّ بِفَوْرِ عُجْبٍ وَكَمْ مِنْ مُّزْدَهِي صَيْدُ النَّكَـالِ پس تو خود پسندی کے جوش میں ہرگز تکبر نہ کر۔اور بہت سے مغرور عبرت ناک عذاب کا شکار بن چکے ہیں۔