القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 208

۲۰۸ وَأَرَى تَغَيُّظَهُمْ يَفُورُ كَلُجَّةٍ مَوْجٌ كَمَوْجِ الْبَحْرِ فِي الْغَلَوَاءِ میں ان کے غصے کو دیکھتا ہوں کہ وہ منجدھار کی طرح جوش مار رہا ہے۔سمندر کی موجوں کی طرح گمراہی کی موجیں۔كَلِمُ اللّنَامِ آسِنَّةٌ مَذْرُوبَةٌ أَعْرَى بَوَاطِنَهُمْ لِبَاسُ عُوَاءِ کمینوں کی باتیں تیز کئے گئے نیزے ہیں بھونکنے کے لباس نے ان کے اندرونے کو ننگا کر دیا ہے۔مَنْ مُخْبِرٌ عَنْ ذِلَّتِي وَمُصِيبَتِى مَوْلَايَ خَتَمَ الرُّسُلِ أَهْلَ رَجَاءِ میری ذلت اور میری مصیبت کی خبر کون دے گا میرے آقا خاتم الرسل صاحب احسان و فضیلت کو۔يَا طَيِّبَ الأَخْلَاقِ وَالْأَسْمَاءِ جِتُنَاكَ مَظْلُومِينَ مِنْ جُهَلَاءِ اے پاکیزہ اخلاق اور پاک ناموں والے ہم جاہلوں کے ظلموں سے مظلوم ہوکر تیرے پاس آئے ہیں۔إِنَّ المَحَبَّةَ لَا تُضَاعُ وَتُشْتَرى إِنَّا نُحِبُّكَ يَاذُ كَاءَ سَخَاءِ یقیناً محبت نہ تو ضائع کی جاسکتی ہے اور نہ خریدی جاسکتی ہے۔اے آفتاب سخاوت ! ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں۔أَنْتَ الَّذِي جَمَعَ الْمَحَاسِنَ كُلَّهَا أَنْتَ الَّذِي قَدْ جَاءَ لِلْإِحْيَاءِ تو ہی ہے جس نے تمام محاسن جمع کر لئے ہیں۔تو ہی ہے جو احیاء کے لئے آیا ہے۔أَنْتَ الَّذِي تَرَكَ الْهُدُونَ لِرَبِّهِ وَتَخَيَّرَ الْمَوْلَى عَلَى الْحَوْبَاءِ تو ہی ہے جس نے اپنے رب کیلئے (دشمنوں سے صلح جوئی کو چھوڑ دیا اور اپنی جان پر اپنے مولیٰ کو مقدم کر کے اختیار کر لیا۔يَاكَنُزَنِعَمِ اللَّهِ وَالأَلَاءِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ لِلْإِرُكَاءِ اے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور بخششوں اور عطایا کے خزانے مخلوق اتیری طرف پناہ لینے کے لئے دوڑی آ رہی ہے۔يَابَدْرَ نُورِ اللَّهِ وَالْعِرَفَانِ تَهْوِي إِلَيْكَ قُلُوْبُ أَهْلِ صَفَاءِ اے اللہ تعالیٰ کے نور و عرفان کے بدر کامل! اہلِ صفا کے دل تیری طرف ٹوٹے پڑتے ہیں۔يَا شَمُسَنَا يَا مَبْدَءَ الْأَنْوَارِ نَوَّرُتَ وَجْهَ الْمُدْنِ وَالْبَيْدَاءِ اے ہمارے آفتاب اور اے منبع الانوار! تو نے شہروں اور ویرانوں کے چہرے منور کر دیئے۔