القصائد الاحمدیہ — Page 207
۲۰۷ يَا رَبِّ أَيَّدُنِي بِفَضْلِكَ وَانْتَقِمُ مِمَّنْ يَدُسُ الدِّينَ تَحْتَ عَفَاءِ اے میرے رب! اپنے فضل سے مجھے قوت و طاقت بخش اور اُس سے انتقام لے جو دین کو مٹی میں دباتا ہے۔لَا يَعْلَمُونَ نِكَاتِ دِينِ الْمُصْطَفَى وَتَهَالَكُوا فِي بُخْلِهِمْ وَ رِيَاءِ لوگ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے نکات کو نہیں جانتے اور اپنے ہی بخل اور ریا میں ہلاک ہورہے ہیں۔يُؤْذُونَنِي قَوْمٌ أَضَاعُوا دِينَهُمْ نَجْسُ الْمَقَاصِدِ مُظْلِمُ الْأَرَاءِ وہ مجھے اذیت دیتے ہیں۔وہ ایسی قوم ہیں جنہوں نے اپنا دین ضائع کر دیا۔ناپاک مقاصد اور تاریک آراء والے۔خَشُوا وَلَا يَخْشَى الرِّجَالُ شَجَاعَةً فِي نَائِبَاتِ الدَّهُرِ وَالْهَيْجَاءِ انہوں ڈرایا مگر مردان خدا اپنی بہادری کی وجہ سے نہیں ڈرتے زمانے کے مصائب اور جنگ میں۔زَمَعُ الْأَنَاسِ يُحَمْلِقُونَ كَتَعْلَبٍ يُؤْذُونَنِي بِتَحَوُّبٍ وَمُوَاءِ عوام میں سے کم یہ لوگ مجھے لومڑی کی طرح گھورتے ہیں۔وہ مجھے بھی اور لومڑی کی آوازوں سے اذیت دیتے ہیں۔حَسَدُوا فَسَبُّوْا حَاسِدِينَ وَلَمْ يَزَلْ ذُوالْفَضْلِ يَحْسُدُهُ ذَوُو الْأَهْوَاءِ انہوں نے حسد کیا اور حاسد بن کر گالیاں دیں اور ایسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ صاحب فضیلت سے ہوا و ہوس والے حسد کرتے ہیں۔صَالُوا بِإِبْدَاءِ النَّوَاجِدِ كَالْعِدَا لِمَقَالَةِ ابْن بَطَالَةَ وَشَّاءِ انہوں نے دشمنوں کی طرح اپنی کچلیاں دکھا کر حملہ کیا۔بطالت اور چغل خوری کے فرزند کے اقوال سے۔إِنَّ اللّنَامَ يُكَفِّرُوْنَ وَذَمُّهُمُ مَازَادَنِي إِلَّا مَقَامَ سَنَاءِ کمینے کا فرقرار دیتے ہیں اور ان کی مذمت نے تو مجھے بلند مرتبہ اور برتری میں اور بھی بڑھایا ہے۔نَضَّوا القِيَابَ ثِيَابَ تَقْوَى كُلُّهُمْ مَابَقِيَ إِلا لِبُسَةَ الْإِغْوَاءِ ان سب نے اپنے تقوی کے تمام کپڑے اتار دیئے ہیں اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا سوائے گمراہ کن لباس کے۔مَا إِنْ أَرَى غَيْرَ الْعَمَائِمِ وَاللُّحَى أَوَانُفَا زَاغَتُ بِفَرُطِ مِرَاءِ میں سوائے پگڑیوں اور ڈاڑھیوں کے کچھ نہیں دیکھایا پھر ایسے ناک جو کج بحثی کی افراط سے ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔