القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 206

۲۰۶ مَلَكُوتُهُ تَبْقَى بِقُوَّةٍ ذَاتِهِ وَلَهُ التَّقَدُّسُ وَالْعُلَى بِغَنَاءِ اس کی ملکوت اس کی ذات کی قوت سے قائم ہے اور اسی کو غناء کے ساتھ تقدس اور برتری حاصل ہے۔غَلَبَتْ عَلى قَلْبِي مَحَبَّةُ وَجْهِهِ حَتَّى رَمَيْتُ النَّفْسَ بِالْإِلْغَاءِ میرے دل پر اس کے چہرے کی محبت غالب آ گئی یہاں تک کہ میں نے اپنے نفس کو اور اس کی خواہشات کو باطل اور کالعدم بنا کر پھینک دیا۔وَأَرَى الوَدَادَ أَنَارَ بَاطِنَ بَاطِنِي وَأَرَى التَّعَمُّقَ لَاحَ فِي سِيُمَانِي میں دیکھتا ہوں کہ محبت نے میرے باطن کے باطن کو منور کر دیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ عشق میرے چہرے پر ظاہر ہو گیا ہے۔مَابَقِيَ فِي قَلْبِي سِوَاهُ تَصَرُّرٌ غَمَرَتْ آيَادِى اللَّهِ وَجْهَ رَجَائِي میرے دل میں اس کے سوا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔خدا تعالیٰ کے احسانات نے میری خواہشوں کے منہ کو ڈھانپ لیا ہے۔هَوْجَاءُ الْفَتِهِ أَثَارَتْ حُرَّتِى فَفَدَا جَنَانِى صَوْلَةَ الْهَوْجَاءِ اس کی الفت کی تیز ہواؤں نے میری خاک اڑادی پس میرا دل ان ہواؤں کی شدت پر قربان ہو گیا۔أُبْرِى الْهُمُومَ بِمَشْرَفِيَّةِ فَضْلِهِ وَاللَّـهُ كَافٍ لِي وَنِعْمَ الرَّاعِي میں غموں کا علاج اس کے فضل کی تلواروں سے کرتا ہوں اور اللہ ہی میرے لئے کافی ہے اور کیا خوب نگہبان ہے۔مَا شَمَّ أَنْفِي مَرْغَمًا فِي مَشْهَدٍ وَأَثَرْتُ نَقْعَ الْمَوْتِ فِي الْأَعْدَاءِ میرے ناک نے کسی مقام پر بھی ذلت کی ہونہیں سونگھی اور میں نے دشمنوں میں موت کا غبار اڑا دیا ہے۔يَا رَبِّ امَنَّا بِأَنَّكَ وَاحِدٌ رَبُّ السَّمَاءِ وَخَالِقُ الْغَبْرَاءِ اے میرے رب ! ہم ایمان لائے کہ تو واحد ہے۔آسمان کا پروردگار اور (خاکستری) زمین کا خالق۔امَنْتُ بِالْكُتُبِ الَّتِى أَنْزَلْتَهَا وَبِكُلِّ مَا أَخْبَرُتَ مِنْ أَنْبَاءِ میں ان تمام کتابوں پر ایمان لایا جوتو نے نازل فرمائیں اور ان تمام پیشگوئیوں پر بھی جن کی تو نے خبر دی ہے۔يَا مَلْجَأَى أَدْرِكَ فَإِنَّكَ مَوْئِلِي يَا كَهْفِي اعْصِمُنِي مِنَ الشَّغْبَاءِ اے میری پناہ! مجھے سنبھال کہ تو ہی میری سپر ہے۔اے مری جائے پناہ! مجھے ( کمینوں کے ) شور وشر سے بچالے۔