القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 11

وَ حَرْبِي بِالدَّلَائِلِ لَا السّهَامِ وَقَوْلِى لَهَدَمٌ شَاجُ الْقُذَالِ اور میری لڑائی دلائل کے ذریعہ ہوگی نہ کہ تیروں سے اور میرا قول تیغ براں ہے جو گڈمی کو توڑ دینے والا ہے۔وَفَاقَ السَّيْفَ نُطْقِي فِي الصَّقَالِ قَدِ اغْتَلْتُ الْمُكَفِّرَ كَالْغَزَالِ اور میرا کلام چمک اور تیزی میں تلوار سے بڑھ کر ہے۔بے شک میں نے تکفیر کر نیوالے کو ہرن کے شکار کی طرح اچانک ہلاک کر دیا ہے۔وَلَمْ يَزَلِ اللّنَامُ يُكَفِّرُونِي إِلَى أَنْ جَاءَ نُصْرَةُ ذِي الْجَلَالِ اور کمینے لوگ میری تکفیر میں لگے رہے یہاں تک کہ خدائے ذوالجلال کی مدد آ گئی۔وَقَدْ جَادَ لْتَنِي ظُلْمًا وَّ زُورًا وَجَاوَزُتَ الدِّيَانَةَ فِي الْجِدَال اور یقیناً تو نے ظلم اور جھوٹ کے ساتھ مجھ سے جھگڑا کیا ہے۔اور اس جھگڑے میں دیانت سے تجاوز کر گیا ہے۔وَلَوْ قَبْلَ الْجِدَالِ سَأَلْتَ مِنِّى جُذِبْتَ إِلَى الْهُدَى قَبْلَ الْوَبَالِ اگر جھگڑے سے پہلے تو مجھ سے دریافت کر لیتا تو تباہی سے پہلے ہدایت کی طرف کھینچا جاتا۔لَنَا فِي نُصْرَةِ الدِّينِ الْمَتِينِ مَسَاعِي فِي التَّرَقِي وَالْكَمَالِ دینِ متین کی نصرت میں ہماری ایسی مساعی ہیں جو ترقی اور کمال پارہی ہیں۔هَدَانِي خَالِقِي نَهْجًا قَوِيمًا وَرَبَّانِى بِأَنْوَاعِ النَّوَالِ میرے خالق نے مجھے سیدھی راہ پر چلایا ہے اور طرح طرح کے انعامات سے میری تربیت فرمائی ہے۔لَقَدْ أُعْطِيتُ أَسْرَارَ السَّرَائِرِ فَسَلْ إِنْ شِئْتَ مِنْ نَّوْعِ السُّوَّالِ مجھے نہاں در نہاں اسرار عطا کئے گئے ہیں۔اگر تو چاہے تو کسی طرح کا سوال کر کے پوچھ دیکھ۔وَقَدْ غَوَّصْتُ فِي بَحْرِ الْفَنَاءِ فَعُدْتُ وَ فِي يَدِى أَبْهَى النَّالِي اور میں نے فنا کے سمندر میں غوطہ لگایا۔سو جب میں لوٹا تو میرے ہاتھ میں بہت ہی چمکدار موتی تھے۔رَأَيْتُ بِفَضْلِ رَبِّي سُبُلَ رَبِّي وَإِنْ كَانَتْ أَدَقَّ مِنَ الْهِلَالِ میں نے اپنے رب کے فضل سے خدا کی راہیں پالی ہیں اگر چہ وہ ہلال سے بھی زیادہ بار یک تھیں۔