القصائد الاحمدیہ — Page 188
۱۸۸ اور خلافت موعودہ کے کام پورے ہو گئے اور اس میں سوچنے والے دل کے لئے نشانات ہیں۔وَإِنِّي أَرَى الصِّدِّيقَ كَالشَّمْسِ فِي الضُّحَى مَاثِرُهُ مَقْبُوْلَةٌ عِنْدَ هُوْجِرٍ میں ( ابوبکر صدیق کو چاشت کے سورج کی طرح پاتا ہوں آپ کے مناقب و اخلاق ایک روشن ضمیر انسان کی نگاہ میں مقبول ہیں۔وَكَانَ لِذَاتِ الْمُصْطَفَى مِثْلَ ظِلِّهِ وَمَهُمَا أَشَارَ الْمُصْطَفَى قَامَ كَالْجَرِي و مصطفی صلی الہ علیہ وسلم کے لئے آپ کے سائے کی مثل تھا اور جب بھی مصطفی صلی اللہ علیہ سل نے اشارہ کیا تو بہادر کی طرح اٹھ کھڑا ہوا۔وَاَعْطَى لِنَصْرِ الدِّينِ أَمْوَالَ بَيْتِهِ جَمِيعًا سِوَى الشَّيْءِ الْحَقِيرِ الْمُحَقَّرِ اور اس نے دین کی نصرت کے لئے اپنے گھر کے سب اموال دے دیئے سوائے ناچیز اور معمولی اشیاء کے۔وَلَمَّا دَعَاهُ نَبِيُّنَالِرِفَاقَةٍ عَلَى الْمَوْتِ أَقْبَلَ شَائِقًا غَيْرَ مُدْبِرِ اور جب ہمارے نبی نے اسے رفاقت کے لئے بلایا تو وہ موت پر شوق کے ساتھ آگے بڑھا اس حال میں کہ وہ پیٹھ پھیر نے والا نہ تھا۔وَلَيْسَ مَحَلَّ الطَّعُنِ حُسُنُ صِفَاتِهِ وَإِنْ كُنتَ قَدْ أَزْمَعُتَ جَوْرًا فَعَيْرِ اور اس کی اچھی صفات طعن کا محل نہیں۔اگر تو نے ظلم سے ارادہ کیا ہے تو عیب لگا تارہ۔أَبَادَ هَوَى الدُّنْيَا لِإِحْيَاءِ دِينِهِ وَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ مِنْ كُلِّ مَعْبَرٍ اس نے دنیا کی خواہشات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے احیاء کی خاطر مٹادیا اور رسول اللہ کے پاس ہر گزرگاہ سے آیا۔عَلَيْكَ بِصُحُفِ اللَّهِ يَا طَالِبَ الْهُدَى لِتَنْظُرَ أَوْصَافَ الْعَتِيقِ الْمُطَهَّرِ اے طالب ہدایت! اللہ کے صحیفوں کو لازم پکڑتا تو اس پاک شریف النفس کے اوصاف دیکھے۔وَمَا إِنْ أَرَى وَاللهِ فِي الصَّحْبِ كُلِّهِمْ كَمِثْلِ أَبِي بَكْرٍ بِقَلْبٍ مُّعَطَّرِ اور خدا کی قسم ! میں تمام کے تمام صحابہ میں کوئی شخص ابو بکر کی طرح معطر دل والانہیں پاتا۔تَخَيَّرَهُ الأصْحَابُ طَوْعًا لِفَضْلِهِ وَلِلْبَحْرِ سُلْطَانٌ عَلَى كُلِّ جَعْفَرٍ صحابہ نے بخوشی اس کی بزرگی کی وجہ سے اس کا انتخاب کیا۔اور سمندر کوغلبہ حاصل ہے ہر دریا پر۔وَيُثْنِي عَلَى الصِّدِّيقِ رَبِّ مُّهَيْمِنٌ فَمَا أَنْتَ يَا مِسْكِينُ إِنْ كُنْتَ تَزْدَرِى