القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 180

۱۸۰ آتَانَ صُرُ بَعْدَ ثَلَثِ مِأَةٍ وَبَعْدَ مُرُوْرٍ مُدَّةِ الْفِ عَامٍ ہمیں خُدا تعالیٰ کی مدد۔تیرہ سو برس گزرنے کے بعد آئی۔بَدَا أَمْرٌ يُعِينُ الصَّادِقِينَا وَلَا يُبقِى شُكُوكَ ذَوِي الْخِصَامِ وہ امرظاہر ہوا جو صادقوں کی مدد کرتا ہے۔اور جھگڑنے والوں کے شکوں کو باقی نہیں رکھتا۔بَدَا بَطَلٌ يُحَارِبُ كُلَّ خَصْمٍ وَيَضْرِبُ بِالصَّوَارِمِ وَالسِّهَامِ وہ دلیر ظا ہر ہوا جو ہر یک دشمن سے لڑائی کرتا ہے۔اور تلواروں اور تیروں کے ساتھ مارتا ہے۔يسَ لِمُنْكِرٍ عُذْرٌ صَحِيحٌ سِوَى التَّسْوِيلِ زُوْرًا كَالْحَرَامِي پس منکر کو کوئی صیح یذ نہیں ہے۔سوائے اُس کے جو چوروں کی طرح جھوٹی باتیں آراستہ کرے۔فَهَذَا يَوْمُ تَهْنِيَةٍ وَفَتْحِ وَتَنْجِيَةِ الْخَلَائِقِ مِنْ أَثَامِ پس یہ دن مبارک بادی اور فتح کا ہے۔اور خلقت کو گناہ سے نجات دینے کا دن ہے۔إِذَا مَا عَيَّ قَوْمِي مِنْ جَوَابِ فَمَالُوا نَحْوَ هَذِي كَالْجَهَامِ جس وقت میری قوم جواب دینے سے عاجز آ گئی۔سو بکو اس کی طرف مائل ہوگئی جیسے وہ بادل کہ جس میں پانی نہ ہو۔وَقَالُوا آيَةٌ لِّبَنِى حُسَيْنٍ وَمِنْهُمْ تَرْقُبَنُ بَعْثَ الْإِمَامِ اور بولے کہ یا ایک نشان بنی حسین کے لئے ہے۔اور انہیں میں سے امام کے پیدا ہونے کی امید کی جاتی ہے۔فَقُلْتُ اخْشَوْا إِلَهَا ذَاجَلَالِ وَفِرُّوا نَحْوَ عَيْنِي بِالْأَوَامِ پس میں نے کہا کہ خدائے بزرگ سے ڈرو۔اور میرے چشمہ کی طرف پیاس کے ساتھ دوڑو۔وَلَا يَدْرِى الْخَفَايَا غَيْرُ رَبِّي وَمَا الْأَقْوَامُ إِلا كَالًا سَامِي اور پوشیدہ باتوں کو میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اور قومیں صرف نام ہیں۔وَنَحْنُ الْوَارِثُوْنَ كَمِثْلِ وُلْدٍ وَرِثْنَا كُلَّ أَمْوَالِ الْكِرَامِ اور ہم بیٹوں کی طرح وارث ہیں۔اور بزرگوں کے تمام مال کے ہم وارث ہو گئے۔