القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 9

الْقَصِيدَةُ الْمُبْتَكِرَةُ الْمُحَبَّرَةُ الَّتِى خَاطِرِى أَبُو عُذْرِهَا وَ قَدْ أَوْدَعْتُهَا أَشْعَارًا تُشْفِي صُدُورَ الْمُتَفَكِّرِيْنَ وَ تُرْوِي أَوَامَ الصَّادِينَ۔یہ منفرد اور خوبصورت قصیدہ میری طبع فکر کی تخلیق ہے میں نے اس قصیدہ کو ایسے اشعار ودیعت کئے ہیں جو غور و فکر کرنے والوں کے سینوں کو شفا دیں گے اور پیاسوں کی پیاس کو بجھا دیں گے۔بِمُطَّلِعٍ عَلَى أَسْرَارِ بَالِى بِعَالِمِ عَيْبَتِي فِي كُلِّ حَالِي قسم اس ذات کی جو میرے دل کے بھیدوں سے آگاہ ہے اور قسم اس ذات کی جو ہر حال میں میرے سینے کے راز سے واقف ہے۔بِوَجْهِ قَدْ رَأَى أَعْشَارَ قَلْبِي بِمُسْتَمِعِ لِصَرْخِي فِي اللَّيَالِي قسم اس ذات کی جو میرے دل کے تمام گوشوں سے واقف ہے اور قسم اس ذات کی جورا توں کو میری آہ وزاری کو سنے والا ہے۔لَقَدْ أُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِّ كَرِيمٍ رَحِيْمِ عِندَ طُوفَانِ الضَّلَالِ بے شک میں رب کریم رحیم کی طرف سے طوفانِ ضلالت کے وقت بھیجا گیا ہوں۔وَقَدْ أُعْطِيتُ بُرُهَانًا كَرُمْحٍ وَلَقَفْنَاهُ تَفْقِيْفَ الْعَوَالِـي اور مجھ کو نیزے جیسی تیز ) بر ہان دی گئی ہے اور اس برہان کو ہم نے ہر بچی سے پاک کر دیا ہے جس طرح کہ نیزوں کوسیدھا کیا جاتا ہے۔فَلَا تَقْفُ الظُّنُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَخَفْ أَخُذَ الْمُحَاسِبِ ذِي الْجَلَالِ پس تو نادانی سے بے بنیاد خیالی باتوں کے پیچھے نہ لگ اور صاحب جلال حساب لینے والے کی گرفت سے ڈر۔