القصائد الاحمدیہ — Page 8
إِنِّي لَقَدْ أُحْيِيتُ مِنْ إِحْيَانِهِ وَاهَا لِإِعْجَازِ فَمَا أَحْيَانِـي بے شک میں آپ کے زندہ کرنے سے ہی زندہ ہوا ہوں۔سبحان اللہ! کیا اعجاز ہے اور مجھے کیا خوب زندہ کیا ہے! يَا رَبِّ صَلّ عَلَى نَبِيِّكَ دَائِمًا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْثٍ ثَانِ اے میرے رب ! اپنے نبی پر ہمیشہ درود بھیجتارہ۔اس دنیا میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی۔يَا سَيِّدِى قَدْ جِئْتُ بَابَكَ لَاهِفًا وَالْقَوْمُ بِالْإِكْـفَـارِ قَدْ آذَانِـي اے میرے آقا! میں تیرے دروازے پر مظلوم ومضطر فریادی کی حالت میں آیا ہوں جبکہ قوم نے (مجھے) کا فر کہہ کر ایذا دی ہے۔يَفْرِئُ سِهَامُكَ قَلْبَ كُلِّ مُحَارِبِ وَيَشُجُّ عَزْمُكَ هَامَةَ النُّعْبَانِ تیرے تیر ہر جنگجو کے دل کو چھید دیتے ہیں اور تیرا عزم اثر دھا کے سر کو چل ڈالتا ہے۔لِلَّهِ دَرُكَ يَا إِمَامَ الْعَالَمِ أَنْتَ السَّبُوْقَ وَ سَيِّدُ الشُّجُعَـانِ آفرین تجھ پر اے دنیا کے امام! تو سب پر سبقت لے گیا ہے اور بہادروں کا سردار ہے۔نُظُرُ إِلَيَّ بِرَحْمَةٍ وَتَحَتُنٍ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْقَرُ الْغِلْمَانِ تو مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر۔اے میرے آقا! میں ایک حقیر ترین غلام ہوں۔يَا حِبِّ إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَبَّةٌ فِي مُهْجَتِي وَ مَدَارِكِي وَ جَنَانِي اے میرے آقا! تو از راہ محبت میری جان میرے حواس اور میرے دل میں داخل ہو گیا ہے۔مِنْ ذِكْرِ وَجُهِكَ يَا حَدِيقَةَ بَهْجَتِي لَمْ أَخُـلُ فِي لَحْطٍ وَّلَا فِي آنِ اے میری خوشی کے باغ! تیرے چہرے کی یاد سے میں ایک لحظہ اور آن کے لئے بھی خالی نہیں رہا۔جِسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَقٍ عَلَا يَالَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ میرا جسم تو شوق غالب سے تیری طرف اڑنا چاہتا ہے۔اے کاش! مجھ میں اڑنے کی طاقت ہوتی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۰ تا ۵۹۴)