القصائد الاحمدیہ — Page 7
أَلْفَيْتُهُ بَحْرَ الْحَقَائِقِ وَالْهُدَى وَرَأَيْتُهُ كَالدُّرِ فِى اللَّمَعَانِ میں نے آپ کو حقائق اور ہدایت کا سمندر پایا اور چمک دمک میں آپ کو موتی کی طرح پایا۔قَدْ مَاتَ عِيسَى مُطْرِقَا وَّنَبِيَّنَا حَيٌّ وَ رَبِّي إِنَّهُ وَافَانِي عیسی تو سر جھکائے وفات پاگئے اور ہمارے نبی زندہ ہیں اور مجھے رب کی قسم ! آپ نے مجھ سے ملاقات بھی کی ہے۔وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ جَمَالَهُ بِعُيُونِ جِسْمِي قَاعِدًا بِمَكَانِي بخدا! میں نے آپ کے جمال کو اپنی جسمانی آنکھوں سے اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔هَا إِنْ تَظَنَّيْتَ ابْنَ مَرْيَمَ عَائِشًا فَعَلَيْكَ إِثْبَاتًا مِنَ الْبُرُهَـانِ دیکھ ! اگر تو بھی ابن مریم کو زندہ گمان کرتا ہے۔تو دلیل سے ثابت کرنا تجھ پر لازم ہے۔أ فَانتَ لَا قَيْتَ الْمَسِيحَ بِيَقُظَةٍ أَوْجَاءَكَ الْأَنْبَاءُ مِنْ يَقْـظَــانِ کیا تو مسیح سے بیداری میں مل چکا ہے یا کسی جیتے جاگتے سے تمہیں ایسی خبریں ملی ہیں۔اُنظُرُ إِلَى الْقُرْآنِ كَيْفَ يُبَيِّنُ أَفَأَنْتَ تُعْرِضُ عَنْ هُدَى الرَّحْمَانِ قرآن کود یکھ کہ وہ کیسے واضح طور پر بیان کرتا ہے۔کیا تو خدائے رحمان کی ہدایت سے منہ پھیرتا ہے؟ فَاعْلَمُ بِأَنَّ الْعَيْشَ لَيْسَ بِثَابِتٍ بَلْ مَاتَ عِيسَى مِثْلَ عَبْدِ فَان جان لے کہ زندگی تو ثابت نہیں بلکہ عیسی ایک فانی بندہ کی طرح مرچکے ہیں۔وَنَبِيُّنَا حَيٌّ وَإِنِّي شَاهِدٌ وَقَدِ اقْتَطَفُتُ قَطَائِفَ اللُّقْيَانِ اور ہمارے بنی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور بے شک میں گواہ ہوں اور میں نے آپ کی ملاقات کے ثمرات حاصل کئے ہیں۔وَ رَأَيْتُ فِي رَيْعَانِ عُمُرِى وَجْهَهُ ثُمَّ النَّبِيُّ بِيَقَظَتِي لَاقَانِي میں نے تو (اپنے ) عنفوانِ شباب میں ہی آپ کا چہرہ مبارک دیکھا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری بیداری میں بھی مجھے ملے ہیں۔