القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 138

۱۳۸ الْيَوْمَ قَدْ فَرِحُوا بِرِجْسِ تَنَصُّرٍ وَالْحَقُّ لَا يَخْطُرُ إِلَى أَذَانِهِمْ آج وہ لوگ نصرانیت کی ناپاکی سے خوش ہورہے ہیں اور سچائی ان کے کانوں کی طرف قدم نہیں بڑھاتی۔قَوْمٌ تَمِيلُ مَعَ الْهَوَا أَفْكَارُهُمْ وَعَفَتْ نُقُوشُ الصِّدْقِ مِنْ حِيْطَانِهِمْ یہ ایک قوم ہے جن کے فکر نفسانی خواہش کے ساتھ جھک پڑتے ہیں اور سچائی کے نقش ان کی دیوارں سے مٹ گئے ہیں۔ظَهَرَتْ كَأَثْرِ السَّمِّ ثَوْرَةُ وَعْظِهِمْ وَحَلَتْ تُقَاةُ الْخَلْقِ مِنْ ادْجَانِهِمُ زہر کے اثر کی طرح ان کے وعظ کا جوش ظاہر ہے ان کے مقام سے لوگوں کی پر ہیز گاری کوچ کرگئی۔هَلْ شَاهَدَتْ عَيْنَاكَ قَوْمًا مِّثْلَهُمْ أَمْ هَلْ سَمِعْتَ نَظِيرَهُمْ فِي ذَانِهِمْ کیا ایسی قوم تو نے کوئی اور بھی دیکھی یا ان کے عیب میں ان کی کوئی دوسری نظیر بھی سنی ؟ بِطَرِيقَةٍ سَنَّتْ لَهُمُ ابْآءُ هُمْ يَدْعُوا إِلَى الْجَهَلَاتِ صَوْتُ كِرَانِهِمْ اس طریق سے جو ان کے باپ دادوں نے مقرر کیا ہے ان کا طنبور باطل باتوں کی طرف بلا رہا ہے۔فَكَأَنَّ أَبْوَابَ الْمَكَائِدِ كُلِّهَا فُتِحَتْ لِفِتْنَتِنَا عَلَى رُهْبَانِهِمْ پس گویا کہ تمام فریبوں کے دروازے ان پر اس لئے کھولے گئے کہ تا ہمارا امتحان ہو۔قَد اثَرُوا طُرُقَ الضَّلَالِ تَعَمُّدًا مَازَادَ خُسْرَانٌ عَلَى خُسْرَانِهِمْ انہوں نے گمراہی کی تمام راہوں کو پسند کر لیا جس ٹوٹے میں وہ پڑے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی اور ٹوٹا نہیں۔إِنَّ الصَّلِيبَ سَيُكْسَرَنُ وَيُدَقَّقَنُ جَاءَ الْجِيَادُ وَ زَهَقَ وَقْتُ أَتَانِهِمُ صلیب تو عنقریب ٹوٹ جائے گا۔گھوڑے آئے اور گدھیاں بھا گیں۔الْكِذَبُ مَجْنَبَةٌ لِكُلِّ مُبَاحِثٍ لَكِنَّهُمْ تَرَكُوا حَيَاءَ جَنَانِهِمْ جھوٹ بولنا ہر یک بحث کرنے والے کے لئے بددلی کا باعث ہوتا ہے مگر انہوں نے تو اپنے دل کا حیا ترک کر دیا۔سَمٌ مُّبِيدٌ مُّهْلِكَ فِي لَبَنِهِمْ مَكْرٌ مُّضِلُّ الْخَلْقِ فِي هَدْجَانِهِمْ ان کے دودھ میں زہر ہے جو ہلاک کرنے والی اور مارنے والی ہے۔ان کی پیرانہ رفتار میں ایک مکر ہے جو خلقت کو گمراہ کرنے والا ہے۔