القصائد الاحمدیہ — Page 137
۱۳۷ فَإِذَا تَكَلَّمُنَا فَسَيْفْ قَوْلُنَا رُمُحٌ مُّبِيدٌ لَا كَمِثْلِ بَيَانِهِمُ اور جب ہم کلام کریں تو ہماری کلام ایک تلوار ہے ایک نیزہ ہلاک کرنے والا ہے نہ ان کے بیان کی طرح۔وَلَقَدْ أُمِرْتُ مِنَ الْمُهَيْمِنِ بَعْدَمَا هَاجَتْ دُخَانُ الْفِتَنِ مِنْ نِيرَانِهِمْ اور میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اس وقت کے بعد جو پادریوں کی آگ سے دھوئیں اٹھے۔مَا قُلْتُ بَلْ قَالَ الْمُهَيْمِنُ هَكَذَا مَاجِبْتُهُمْ بَلْ جَاءَ وَقْتُ هَوَانِهِمُ یہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح کہا میں ان کے پاس نہیں آیا بلکہ ان کی ذلت کا وقت آ گیا۔طَوْرًا أَحَارِبُ بِالسّهامِ وَتَارَةً أَهْوَى بِأَسْيَافٍ إِلَى إِثْخَانِهِمْ کبھی میں ان سے تیروں کے ساتھ جنگ کرتا ہوں اور کبھی میں اپنی تلوار کے ساتھ ان کے قتل کثیر کی طرف توجہ کرتا ہوں۔بِمُهَنَّدٍ صَافِ الْحَدِيدِ جَذَمُتُهُمْ وَعَصَايَ قَدْ أَفْنَتْ قُوَى تُعْبَانِهِمْ نہایت عمدہ تلوار سے میں نے ان کو کاٹ دیا ہے اور میرے عصا نے ان کے سانپ کی تمام قو تیں فنا کر دیں۔رُوحِي بِرُوحِ الْأَنْبِيَاءِ مُضَمَّةٌ جَادَتْ عَلَيَّ الْجَوْدُ مِنْ فَيُضَانِهِمْ میرا روح انبیاء کی روح سے معطر کیا گیا ہے اور ان کے فیضان کا ایک بڑا مینہ میرے پر برسا۔إِنَّا نُرَجِعُ صَوْتَنَا بِغِنَائِهِمْ إِنَّا سُقِيْنَا مِنْ كُنُوسِ دِنَانِهِمْ ہم انہی کے گیت کوٹروں کے ساتھ گاتے ہیں ہم انہی کے پیالوں میں سے پلائے گئے ہیں۔قَوْمٌ فَنَوْا فِي سُبُلِ مَرْبَعٍ رَبِّهِمْ وَالْعُمُـى لَا يَدْرُونَ مَطْلَعَ شَأْنِهِمْ وہ ایک قوم ہے جو خدا کی راہ میں فنا ہوگئی اور اندھے ان کی شان کے مطلع کو نہیں دیکھتے۔كَمْ مِنْ شَرِيرِ أُهْلِكُوا بِعِبَادِهِمْ وَرَأَوْ مُدَى نَحْرٍ وَّرَاءَ كَبَانِهِمْ بہت شریر ہیں جو بوجہ ان کے عناد کے ہلاک کئے گئے اور اپنی بیماری کے بعد ذبح کرنے کی کار دیں انہوں نے دیکھ لیں۔وَ سَيُرْغِمُ اللَّهُ الْقَدِيرُ انُوْفَهُمْ وَيُرَى الْمُهَيْمِنُ ذُلَّ دَاءِ حُنَانِهِمْ عنقریب خدا تعالیٰ ان کی ناکوں کو خاک میں ملائے گا اور ان کی ناک کی بیماری کی ذلت دکھاوے گا۔