القصائد الاحمدیہ — Page 135
۱۳۵ قَدْ أَزْمَعُوْا إِضْلَالَنَا وَوَبَالَنَا فَاضْرِبُ مَكَائِدَهُمْ عَلَى أَبْدَانِهِمْ انہوں نے ہمارا گمراہ کرنا اور وبال میں ڈالنادلوں میں ٹھان لیا ہے سو تو ان کے مکر ان ہی کے جسموں پر مار۔وَإِذَا رَمَيْتَ فَإِنَّ سَهُمَكَ قَاتِلٌ حَدٌ كَاسْيَافٍ عَلَى شُجُعَانِهِمْ اور جب تو تیر چلا دے تو تیر تیر قتل کرنے والا ہے تیز ہے اور تلواروں کی طرح ان کے بہادروں پر پڑتا ہے۔صِرْنَا حَمُولَةً جَوْرِهِمْ وَجَفَاءِ هِمْ زُمَّتْ رِكَابُ الْهَجْرِ مِنْ وَثْبَانِهِمْ ہم ان کے ظلم کے شتر بار برادری ہو گئے جدائی کے اونٹوں کو ان کے حملوں کے سبب سے مہاردی گئی۔لَوْلَا تَعَافَيْنَا تَعَاقَبَ سَبِّهِمْ لَرَمَيْتُ سَهُمَ النَّارِ عِنْدَ عُثَانِهِمْ اگر ہم ان کی گالیوں کا جواب دینے سے کراہت نہ کرتے تو میں ان کے دُخان کے مقابل پر آگ کے تیر چلاتا۔مَا يَظْلِمُ الْاشْرَارُ إِلَّا نَفْسَهُمْ سَتَرى بِنَدَمِ الْقَلْبِ عَضَّ بَنَانِهِمْ ظالم کس پر ظلم نہیں کرتے مگر اپنے نفس پر سو تو عنقریب دیکھے گا کہ وہ دلی ندامت سے اپنی سر انگشت کاٹیں گے۔ظَنُّوا بِانَّ اللَّهَ مُخْلِفُ وَعْدِهِ فَبَغَوْا بِاَرْضِ اللَّهِ مِنْ طُغْيَانِهِمُ انہوں نے خیال کیا کہ خدا تعالیٰ اپنا وعدہ نہیں پورا کرے گا تب وہ خدا تعالیٰ کی زمین میں اپنی بے اعتدالی کی وجہ سے باغی ہو گئے۔وَ قَبُولُ اَمْرِ الْحَقِّ عَارٌ عِنْدَهُمْ صَعَبٌ عَلَى السُّفَهَاءِ عَطْفُ عِنَانِهِمْ سوحق کا قبول کرنا ان کے نزدیک عار ہے اور نادانوں پر حق کی طرف باگ پھیر ناسخت ہو گیا۔سُودٌ كَخَافِيَةِ الْغُرَابِ قُلُوبُهُمْ وَالْخَلْقُ مَخْدُوعُونَ مِنْ لَّمْعَانِهِمْ ان کے دل ایسے سیاہ ہیں جیسے کوے کے وہ پر جو پیٹھے کی طرف ہوتے ہیں اور خلقت ان کی ظاہری چمک سے دھوکا کھا رہی ہے۔فَارْقَبُ إِذَا صَاحَبْتَهُمْ بِمَحَبَّةٍ فِتَنَّا بِدِينِكَ عِنْدَ اسْتِحْسَانِهِمْ پس جب تو ان کی صحبت اختیار کرے تو تجھے باعث ان کے پسند ر کھنے کے اپنے دین کے فتنوں کا امیدوار رہنا چاہئے۔وَلَقَدْ دَعَوْتُ الرَّبَّ عِنْدَ تَنَاضُلِى وَاللَّهُ تُرْسِي عِنْدَ ضَرْبِ سِنَانِهِمْ اور میں نے اپنے مقابلہ کے وقت اپنے رب کو بلایا اور ان کے نیزوں سے بچنے کے لئے خدا میری ڈھال ہے۔