القصائد الاحمدیہ — Page 134
۱۳۴ مَّتْ تْ بَلَايَاهُمْ وَزَادَ فَسَادُهُمْ وَاشْتَدَّ سَيْلُ الْفِتَنِ مِنْ طُغْيَانِهِمْ ان کی بلائیں عام ہو گئیں اور ان کا فساد بڑھ گیا اور فتنوں کا سیلاب ان کی بے اعتدالیوں سے بہت سخت ہو گیا۔يَارَبِّ خُذْهُمْ مِثْلَ أَخْذِكَ مُفْسِدًا قَدْ أَفْسَدَ الْأَفَاقَ طُولُ زَمَانِهِمْ اے خدا تو ان کو پکڑ جیسا کہ تو ایک مفسد کو پکڑتا ہے۔ان کے طول زمانہ نے دنیا کو بگاڑ دیا۔اَدْرِكْ رِجَالًا يَاقَدِيرُ وَنِسْوَةً رُحْمًا وَّ نَحِ الْخَلْقَ مِنْ طُوفَانِهِمْ اے قادر تو اپنے رحم سے مردوں اور عورتوں کی جلد خبر لے اور مخلوق کو اس طوفان سے نجات بخش۔حَلَّتْ بِاَرْضِ الْمُسْلِمِينَ جُنُودُهُمْ فَسَرَتْ غَوَائِلُهُمْ إِلَى نِسْوَانِهِمْ ان کے لشکر مسلمانوں کی زمین میں اتر آئے اور ان کی بلاؤں نے مسلمانوں کی عورتوں تک سرایت کی۔يَارَبَّ أَحْمَدَ يَا إِلَهَ مُحَمَّدٍ إِعْصِمُ عِبَادَكَ مِنْ سُمُومِ دُخَانِهِمْ اے احمد کے رب! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے الہ ! اپنے بندوں کو ان کے دھوؤں کی زہروں سے بچالے۔يَا عَوْنَنَا انْصُرُ مَنْ سِوَاكَ مَلَاذُنَا ضَاقَتْ عَلَيْنَا الْأَرْضُ مِنْ أَعْوَانِهِمْ اے ہمارے مددگار! تیرے سوا ہمارا کون جائے پناہ ہے ہم پر ان لوگوں کے مددگاروں سے زمین تنگ ہوگئی۔كَسِرُ زُجَاجَتَهُمْ إِلهِي بِالصَّفَا وَاعْصِمُ عِبَادَكَ مِنْ سُمُومِ بَيَانِهِمْ اے خدا! پتھروں سے ان کے شیشے کو توڑ دے اور ان کے بیان کی زہر سے اپنے بندوں کے بچالے۔سَبُّوْا نَبِيَّكَ بِالْعِنَادِ وَكَذَّبُوا خَيْرَ الْوَرى فَانْظُرُ إِلَى عُدْوَانِهِمْ تیرے نبی کو انہوں نے عناد سے گالیاں دیں اور جھٹلایا وہ نبی جو افضل الخلوقات ہے سو تو ان کے ظلم کو دیکھ۔يَارَبِّ سَحِقُهُمْ كَسَحْقِكَ طَاغِيًا وَانْزِلُ بِسَاحَتِهِمْ لِهَدْمِ مَكَانِهِمْ اے میرے رب ! ان کو ایسا پیں ڈال جیسا کہ تو ایک طاغی کو پیتا ہے اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے صحن خانہ میں اتر آ۔يَا رَبِّ مَزِقُهُمْ وَفَرِّقْ شَمْلَهُمْ يَارَتِ قَرِدُهُمْ إِلَى ذَوْبَانِهِمْ اے میرے رب ! ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور ان کی جمعیت کو پاش پاش کر دے۔اے میرے رب ! ان کو ان کے گداز ہونے کی طرف کھینچ۔