القصائد الاحمدیہ — Page 124
۱۲۴ وَإِنِّي نَاصِحٌ خِلٌ أَمِينٌ وَيَدْرِي نُورَ عِلْمِي مَنْ يَّرَانِـي اور میں ایک نصیحت دینے والا دوست اور امین ہوں اور جو شخص مجھے دیکھے وہ میرے نور علم کو معلوم کرلے گا۔يُكَرَّمُ جَاهِلٌ قَبْلَ ابْتِلَاءِ وَقَدْرُ الْحِبْرِ بَعْدَ الْإِمْتِحَانِ جاہل کی تعظیم آزمائش سے پہلے ہوتی ہے اور دانا آدمی کی تعظیم اس کے امتحان کے بعد کی جاتی ہے۔وَ كَفَّرَنِي عَدُوُّ الْحَقِّ حُمُقًا فَقُلْتُ اخْسَأْ يَرَانِي مَنْ هَدَانِي اور ایک سچ کے دشمن نے مجھے کا فرٹھہرایا سو میں نے کہا دفع ہو جس نے مجھے ہدایت دی وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔صَوَارِمُهُ عَلَيَّ مُسَلَّلَاتٌ وَإِنِّى نَحْوَ وَجْهِ الْحِبِّ رَانِي اس دشمن کی تلواریں میرے پر کھینچی ہوئی ہیں اور میں اپنے پیارے اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں۔وَإِنِّي قَدْ وَصَلْتُ رِيَاضَ حِبّى وَيَطْلُبُنِي خَصِيْمِي فِي الْمَحَانِي اور میں اپنے پیارے کے باغوں میں پہنچا ہوا ہوں اور دشمن مجھے جنگلوں میں تلاش کر رہا ہے۔هَوَيْتُ الحِبَّ حَتَّى صَارَ رُوحِي وَاَرْنَانِي جِنَانِي فِي جَنَانِي میں نے اس پیارے سے محبت کی یہاں تک کہ وہ میری جان ہو گیا۔اور میرا بہشت اس نے میرے دل میں ہی دکھا دیا۔بِوَجْهِ الْحِبِّ لَسْتُ حَرِيْصَ مُلْكِ كَفَانِي مَا أَرَى نَفْسِي كَفَانِي اس پیارے کی قسم ہے کہ میں کسی ملک کا حریص نہیں اور یہ میرے لئے کافی ہے کہ میں اپنے نفس کو فنا کی حالت میں دیکھتا ہوں۔عُمُودَ الْخَشْبِ لَا أَبْغِي لِسَقْفِى وَحِبّى صَ جنِّى صَارَ لِى مِثْلَ الْبُوَانِ میں لکڑی کے ستون اپنے چھت کے لئے نہیں چاہتا اور میرا پیارا میرے لئے ایسا ہو گیا ہے جیسا کہ ستون۔وَرِثْنَا الْمَجُدَ مِنْ ذِي الْمَجْدِ حَقًّا وَصُبّغْنَا بِمَحْبُوبِ مُّقَانِى ہم نے بزرگی کو خدائے ذی الحجد سے پایا اور اس ملنے والے پیارے کے رنگ سے ہم رنگے گئے۔دَخَلْتُ النَّارَ حَتَّى صِرْتُ نَارًا وَنَخْلِيُّ فَاقَ أَفْكَارَ الْأَفَانِي میں آگ میں داخل ہوا یہاں تک کہ میں آگ ہی ہو گیا اور میری کھجور گھاس پات کے فکروں سے بہت بلند بڑھ گئی۔