القصائد الاحمدیہ — Page 3
كَسَحُوا بُيُوتَ نُفُوسِهِمْ وَتَبَادَرُوا لِتَمَتَّعِ الْإِيْقَانِ وَالْإِيْمَانِ انہوں نے اپنے نفس کے گھروں کو خوب صاف کیا اور یقین وایمان کی دولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے آگے بڑھے۔قَامُوا بِإِقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزُوِهِمْ كَالْعَاشِقِ الْمَشْغُوفِ فِي الْمَيْدَانِ وہ رسول کی پیش قدمی پر اپنی جنگ میں ایک عاشق شیدا کی طرح میدان میں ڈٹ گئے۔فَدَمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبّهِمْ تَحْتَ السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرُبَان سوان جواں مردوں کا خون اپنی محبت میں ثابت قدمی کی وجہ سے تلواروں کے نیچے قربانیوں کی طرح بہایا گیا۔جَاءُ وَكَ مَنْهُوبِيْنَ كَالْعُرْيَانِ فَسَتَرْتَهُمْ بِمَلَاحِفِ الْإِيمَانِ وہ تیرے پاس لٹے پٹے برہنہ شخص کی مانند آئے تو تو نے انہیں ایمان کی چادریں اوڑھا دیں۔صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيْـكَـةِ الْعِقْيَانِ تو نے انہیں گو بر کی طرح ذلیل قوم پایا تو تو نے انہیں خالص سونے کی ڈلی کی مانند بنادیا۔حَتَّى انثنى بَرٌّ كَمِثْلِ حَدِيقَةٍ عَذْبِ الْمَوَارِدِ مُثْمِرِ الْأَغْصَانِ یہاں تک کہ خشک ملک اس باغ کی مانند ہو گیا جس کے چشمے شیریں ہوں اور جس کی ڈالیاں پھلدار ہوں۔عَادَتْ بِلادُ الْعُرْبِ نَحْوَ نَضَارَةٍ بَعْدَ الْوَجَى وَ الْمَحْلِ وَ الْخُسْرَانِ ملک عرب خشک سالی۔قحط اور تباہی کے بعد شاداب ہو گیا۔كَانَ الْحِجَارُ مَغَازِلَ الْغِزُلَان فَجَعَلْتَهُمُ فَانِينَ فِي الرَّحْمَانِ اہل حجاز آ ھو چشم عورتوں سے عشق بازی میں لگے ہوئے تھے سوٹو نے انہیں خدائے رحمن ( کی محبت ) میں فانی بنادیا۔شَيْئَانِ كَانَ الْقَوْمُ عُمْيًا فِيهِمَا حَسُرُ الْعُقَارِ وَكَفَرَةُ النِّسْوَانِ دو باتیں تھیں جن میں قوم اندھی ہورہی تھی یعنی مزے لے لے کر شراب نوشی اور بہت سی عورتیں رکھنا۔