القصائد الاحمدیہ — Page 118
۱۱۸ فكنتُ أُطَالِعَنَّ كِتَابَ سَاتٍ وَتُمْطِرُ مُقْلَتِى مِثْلَ الرَّثَانِ میں نے ایک ایسے شخص کی پادریوں میں سے کتاب دیکھی جس نے گالیاں دی ہیں سومیں اس کتابکو دیکھا تھا اور میری آنھوں سے مینہ کی طرح آنسو جاری تھے۔رَأَيْنَا فِيهِ كَلِمًا مُحْفِظَاتٍ وَ سَبَّ الْمُصْطَفَى بَحْرَ الْحَنَانِ ہم نے اس کتاب میں وہ کلے دیکھے جوغصہ دلانے والے تھے اور دیکھا کہ س شخص نے رسول اللہ کو گالیاں نکالی ہیں جو بخشائش کا دریا ہے۔صَبَرْتُ عَلَيْهِ حَتَّى عِيْلَ صَبْرِى وَنَارُ الْغَيْظِ ثَارَتْ فِي جَنَانِي میں نے اس بات پر صبر کیا یہاں تک کہ صبر کرتا کرتا ہار گیا اور غصہ کی آگ مجھ میں بھڑ کی۔وَتَأْتِيْ سَاعَةٌ إِنْ شَاءَ رَبِّي أَقِرُّ الْعَيْنَ بِالْخَصْمِ الْمُهَانِ اور وہ گھڑی آتی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ کہ ہم دشمنوں کی رسوائی دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔أَخَذْنَا السَّبَّ مِنْهُمْ مِثْلَ دَيْنِ وَعِزَّتُنَا لَدَيْهِمْ كَالرِّهَانِ ان کی گالیاں ہمارے ذمہ قرض کی طرح ہیں اور ہماری عزت ان کے پاس گیر و کی طرح ہے۔سَنَغْشَاهُمْ بِبُرْهَانِ كَعَضْبٍ رَقِيقِ الشَّفَرَتَيْنِ آخِ السِّنَانِ ہم عنقریب دلیل کی تلوار سے ان کے سر پر پہنچیں گے جو بار یک کناروں والے نیزہ کا بھائی ہے۔بِفَأْسٍ نَّخْتَلِيُّ تِلْكَ الْخَلَاتَا وَرُمْحٍ ذَابِلٍ وَقَنَا البَيَـ ہم اس گھاس کو دلائل کے تیر کے ساتھ کاٹیں گے اور نیز بر چھی باریک نوک والی اور بیان کے نیزوں سے۔ـمُجُمَةِ الْعِدَا قَدْ حَلَّ عُوَلٌ فَنُخْرِجُهُ بِايَاتِ الْمَثَانِي ان دشمنوں کی کھوپڑی میں ایک بھوت داخل ہو گیا ہے سو ہم اس کو سورۃ فاتحہ سے نکالیں گے۔لَنَا دِينٌ وَّ دُنْيَا لِلنَّصَارَى وَمَقْتُ الضَّرَّتَيْنِ مِنَ الْعِيَانِ ہمارے حصہ میں دین آیا اور نصاری کے حصہ میں دنیا سوید دوسوتوں کی دشمنی ہے جس کی حقیقت ہریک کے چشم دید ہے۔سَيْمُنَا كُلَّ نَوْعِ الشَّيْمِ مِنْهُمْ وَلَكِنْ سَبُّهُمْ صَلَّى جَنَانِي ہم نے ہر ایک ظلم ان کا اٹھا لیا مگر ان کی گالیوں نے ہمارا دل جلایا۔